الجامعۃ الاسلامیہ
Urdu book, p. 291
By Maulana Wahiduddin Khan
الجامعۃ الاسلامیۃ (مدینہ منورہ) 29 فروری 1984 کی صبح کو میں دہلی کی مسجد کی اذان پر فجر کی نماز کے لیے اٹھا تھا۔ اگلے دن یکم مارچ کی صبح کو میں مدینہ منورہ کے موذن کی اذان پر فجر کی نماز کے لیے اٹھا اور مسجد نبوی کے امام کے پیچھے ”بین اقوامی جماعت“ میں شریک ہو کر فجر کی نماز ادا کی۔ ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ ”راتوں رات“ طے ہونے کا واقعہ بظاہر اتنا ہی عجیب ہے جتنا چودہ سو سال پہلے: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى (17:1) ۔ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک ــــ کا واقعہ لوگوں کو عجیب معلوم ہوا تھا۔ مگر آج کا انسان چونکہ تیز رفتار کاروں اور ہوائی جہازوں کے زمانے میں ہے اس لیے ایسی خبر سن کر آدمی کے اوپر حیرانگی طاری نہیں ہوتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے ”اسراء“ کا واقعہ بھی اتناہی غیر عجیب تھا جتنا موجودہ زمانے کا واقعہ۔ آج کا ”اسراء“ جس نظام اسباب کے تحت ہوتا ہے وہ چونکہ انسان کے سامنے کھلا ہوا ہے اس لیے اس پر انسان کو حیرانی نہیں ہوتی۔ مگر چودہ سو سال پہلے کا ”اسراء“ جس نظام اسباب کے تحت ہوا تھا وہ انسان کی نظروں سے اوجھل تھا اس لیے انسان اس کو سمجھ نہ سکا۔ تاہم قیامت میں اس دوسرے نظام (خدائی نظام) سے پردہ ہٹ جائے گا۔ اس وقت انسان جان لے گا کہ اسراء خداوندی بھی اسی طرح عين ممكن تھا جس طرح آج اسراء مشینی بالکل ممکن نظر آتا ہے۔ ”بیل گاڑی“ کے دور میں انسان کے لیے ”ہوائی جہاز“ ایک نا قابل یقین چیز تھی۔ کیوں کہ اس وقت ہوائی جہاز مستقبل کے پردہ میں چھپا ہوا تھا۔ اسی طرح موجودہ زندگی میں ابھی آخرت کا دور انسان کی نظروں سے چھپا ہوا ہے۔ پردہ ہٹنے کے بعد عالم غیب کی باتیں بھی آدمی کے لیے اسی طرح قابل فہم بن جائیں گی جس طرح عالم شہود کی باتیں آج قابل فہم بنی ہوئی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader