Urdu book · علما اور دینی مدارس

الجامعۃ الاسلامیہ

Urdu book, p. 294

By Maulana Wahiduddin Khan

3 مارچ کو جامعہ کی مسجد میں پروگرام تھا۔ یہ مسجد بہت بڑے ہال کی مانند ہے اور انتہائی سادہ ہونے کے باوجود انتہائی شاندار ہے۔ یہ دوسرا محاضرہ انگریزی میں تھا۔ میں نے اصل انگریزی محاضرہ کا کچھ حصہ بطور خلاصہ پڑھا اور اس کے بعد کہا: هَذِهِ خُلَاصَةُ مَقَالَتِي، وَسَيُلْقِيهَا مُفَضَّلَةً بِاللُّغَةِ الْعَرَبِيَّةِ فَضِيلَةُ الْأُسْتَاذِ مُحْيِي الدِّينِ الْعَرَبِيِّ. محی الدین عربی ایک مصری عالم ہیں۔ انہوں نے پہلے سے میرے انگریزی مقالہ کا عربی ترجمہ تیار کر رکھا تھا۔ چنانچہ انہوں نے مکمل ترجمہ خالص عربی لہجہ میں پڑھ کر سنایا۔ 4 مارچ کو دوبارہ جامعہ کے بڑے ہال (قاعة المحاضرات) میں پروگرام تھا۔ محاضرہ کا عنوان تھا: امکانیات جديدة للدعوة۔ یہ مقالہ عربی میں تھا۔ میں نے خود پورا مقالہ پڑھ کر سنایا۔ بعد کو لوگوں نے کہا کہ آپ کے پڑھنے کا طریقہ بہت اچھا تھا۔ اور آئندہ آپ کو اپنا مقالہ خود ہی پڑھنا چاہیے، خواہ وہ عربی میں ہو یا انگریزی میں۔ اس کے بعد تین دن کا وقفہ تھا۔ اگلا پروگرام 11 مارچ کو دن میں ہوا۔ اصل مقالہ انگریزی میں تھا۔ میں نے ابتداءً کچھ کلمات خلاصہ کے طور پر کہے۔ اس کے بعد محی الدین عربی نے اس کا مکمل عربی ترجمہ پڑھ کر سنایا۔ شام کو نماز مغرب کے بعد حوار مفتوح (سوال و جواب) کا پروگرام تھا۔ میں نے تمہید کے طور پر کچھ ابتدائی کلمات عربی میں کہے۔ اس کے بعد طلبہ کے سوالات کا غذ پر لکھے ہوئے آنا شروع ہوئے۔ کافی سوالات آئے اگرچہ بعض سوالات میرے ذوق کے خلاف تھے۔ تاہم میں نے تمام سوالات کے جوابات دیے۔ اس کی شکل یہ ہوئی کہ ایک ایک سوال پڑھ کر سنایا جاتا اور میں اس کا جواب دیتا۔ یہ مجلس کافی دلچسپ رہی۔ لوگ آخر تک نہایت دلچسپی کے ساتھ سنتے رہے۔ اساتذہ اور ذمہ داروں کی بھی ایک تعداد ہال کے اندر تھی۔ 6 مارچ کی شام کو نماز عشا کے بعد جامعہ اسلامیہ کے ہندستانی طلبہ بڑی تعداد میں ہوٹل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page