Urdu book · علما اور دینی مدارس

الجامعۃ الاسلامیہ

Urdu book, p. 295

By Maulana Wahiduddin Khan

کے کمرہ میں آگئے۔ ان کی خواہش پر میں نے بتایا کہ میرا حاصل مطالعہ کیا ہے اور میں نے اب تک کے مطالعہ سے کیا پایا ہے۔ یہ گفتگو زیادہ تر اسلامی دعوت کے جدید امکانات کے پہلو پر تھی۔ اس مجلس میں جامعہ کے بعض استاد بھی شریک تھے۔ مزید میں نے کہا کہ سورہ یوسف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی دنیا میں یہ بھی ممکن ہے کہ جہاں لوگ آپ کی تاریخ ختم کرنا چاہتے ہوں وہاں سے آپ کے لیے ایک نئی تاریخ کا آغاز ہو جائے۔ آپ کا اسوہ قصص احسن الققص میں تبدیل ہو جائے۔ مگر اس عظیم خدائی انعام کو پانے کی دو لازمی شرطیں ہیں، تقویٰ اور صبر (یوسف، 12:90)۔ 7 مارچ کی شام کو ایک صاحب کے مکان پر ہندوستانی طلبہ کا اجتماع ہوا۔ یہاں میں نے اس موضوع پر اظہار خیال کیا کہ ”مومن“ ہونے کا مطلب کیا ہے اور جنت میں داخلہ آدمی کو کس طرح ملے گا۔ آخر میں کچھ لوگوں نے خواہش ظاہر کی کہ آپ اپنے مرکز کے مقاصد کے بارے میں کچھ بتائیں۔ میں نے اس سلسلے میں ضروری تفصیلات عرض کیں۔ مجھ کو ایک عجیب تجربہ یہ ہوا کہ اگر الاّسلام متحدی کی قسم کی سائنس والی باتیں کی جائیں تو لوگ خوب خوش ہوتے ہیں اور ھل من مزید کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر حمد خداوندی کی باتیں کی جائیں، اگر جنت اور جہنم کا تذکرہ کیا جائے، اگر رزق ربانی کے نغمے چھیڑے جائیں تو لوگوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ پہلا اسلام ان کی پہچان والا اسلام ہے۔ جب کہ دوسرا اسلام ان کی پہچان والا اسلام نہیں۔ آج مسلمانوں نے اسلام کو اپنے لیے سرمایہ فخر بنا رکھا ہے۔ اس لیے پہلی قسم کی باتیں ان کو اسلام کا سائنسی قصیدہ معلوم ہوتی ہیں۔ ان کو سن کر ان کی نفسیاتِ فخر کو تسکین ملتی ہے اور وہ خوش ہو جاتے ہیں۔ مگر دوسری قسم کی باتیں ان کو اجنبی معلوم ہوتی ہیں۔ کیوں کہ اسلام کے نام سے وہ اس قسم کی کسی چیز کو جانتے ہی نہیں، اسلام ان کے لیے قومی فخر کا عنوان ہے، نہ کہ اصلاحِ ذات کا عنوان۔ فخر والی بات کی جائے تو وہ اس میں اپنے لیے غذا پا لیتے ہیں۔ مگر اصلاحِ ذات والی باتیں کی جائیں تو وہ اس سے متوحش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page