رياض
Urdu book, p. 308
By Maulana Wahiduddin Khan
قیام گاہ (جدہ) پر ملاقات ہوئی ۔ جدہ میں ہم نے سرکاری مہمان بننے کے بجائے جناب محمد رفیق قریشی کی میزبانی کو پسند کیا۔ اس کی وجہ سے یہاں بہت سے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ ڈاکٹر احمد محمد علی سے ملاقات ہوئی جو اسلامک ڈویلپمنٹ بنک کے صدر ہیں۔ مختلف ملاقاتوں کے درمیان میں نے محسوس کیا کہ راقم الحروف نے جو آواز بیس سال پہلے بلند کرنا شروع کیا تھا اس کی اہمیت اب عام طور پر محسوس کی جانے لگی ہے۔ اب سوچنے سمجھنے والا طبقہ عام طور سے تسلیم کرتا ہے کہ دعوت اسلامی کا کام قومی اور سیاسی جھگڑوں سے الگ ہو کر کرنا چاہیے ۔ مجھے یقین ہے کہ جو بات پچھلے برسوں میں اجنبی بنی ہوئی تھی ، بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب کہ وہی تمام لوگوں کی بات ہوگی ۔ 21 مارچ کی شام کو ہم جدہ سے دوبئ کے لیے روانہ ہوئے ۔ جہاز میں مجھے سردی کا احساس ہوا تو اوپر کا خانہ کھولا کہ اس میں سے کمبل نکال کر پیروں پر ڈال لوں۔ مگر وہاں صرف تکیہ رکھا ہوا تھا۔ مجھ کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ کر جہاز کا ایک کارکن قریب آیا اور بولا : Can I help you (کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں)۔ اردو میں اسی بات کو کہنا ہو تو آدمی کہے گا ” آپ کو کیا چیز چاہیے “۔ زبان کا یہ اسلوب دونوں زبان کے بولنے والوں کے مزاج میں بھی منتقل ہوا ہے جس کا مظاہرہ مختلف عملی پہلوؤں سے ہوتا رہتا ہے۔ 20 مارچ کی شام کو ہمارا جہاز دوبئ کے ہوائی اڈہ پر اترا۔ وہاں چند روز گزارنے کے بعد 26 مارچ 1984 کی صبح کو ہم برٹش ایرویز (147) کے ذریعہ دہلی واپس پہنچے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader