رياض
Urdu book, p. 307
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر وقت خدا کے اختیار میں ہے۔ یہ گویا ایک ریموٹ کنٹرول کا نظام ہے۔ خدا اگر ریموٹ کنٹرول سے ہارٹ بیٹنگ کوروک دے تو ایک لمحہ میں ہمارا وجود ختم ہو جائے ـــ جدید دریافتوں نے اسلامی حقیقتوں کی تفہیم کو کتنا آسان بنا دیا ہے۔ روزنامہ المدینہ (7 جمادی الثانی 1404 ھ) میں ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف کا ایک انٹرویو نظر سے گزرا۔ موصوف اس سے پہلے جامعہ الملك عبدالعزیز (جدہ) میں مدیر تھے۔ اب وہ رابطہ عالم اسلامی کے امین عام ہیں۔ انٹرویو رنے ان سے جو سوالات کیے ان میں سے ایک سوال دنیا کے مسلمانوں کے بارے میں تھا۔ ڈاکٹر عبداللہ نصیف نے غم ناک انداز میں کہا: نَحْنُ نَرَى حَالَ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ مَكَانٍ، وَوَضْعَهُمُ السَّيِّئَ ـــ إِمْكَانِيَاتُهُمُ الضَّعِيفَةُ، فَقْرُهُمْ، جَهْلُهُمْ، وَانْتِشَارُ الْأَمْرَاضِ بَيْنَهُمْ (ہم ہر مقام کے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں۔ ان کا حال برا ہے۔ ان کے وسائل بہت کم ہیں۔ ان میں غریبی اور جہالت ہے۔ ان کے درمیان بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں )۔ 19 مارچ کی شام کو ہم ریاض سے جدہ کے لیے روانہ ہوئے۔ 20 مارچ کی صبح کو ہم جدہ میں تھے ۔ ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف سے ملاقات کا وقت طے تھا، لیکن ہم لوگ جدہ میں دیر سے پہنچے اور بظاہر ممکن معلوم نہیں ہوا کہ ہم لوگ ان سے مل سکیں گے۔ میں نے جناب حامد الدین صاحب سے کہا تو انہوں نے کہا کہ ابھی ان سے ٹیلی فون کر کے دوسرا وقت مقرر کر لیا جائے۔ حامد الدین صاحب نے ٹیلی فون ملایا تو السلام علیکم کے بعد پہلا جملہ یہ کہا: I hope I did not disturb you. میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ انداز خطاب تعلیم سے آتا ہے۔ اگر قوم کو تعلیم یافتہ بنا دیا جائے تو قوم کے تمام مسائل اپنے آپ ختم ہو جائیں۔ کیوں کہ تعلیم قوم کے افراد کو مہذب بھی بناتی ہے اور باشعور بھی۔ اس کے مطابق شام کو نماز عصر کے بعد ڈاکٹر عبداللہ نصیف سے ان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader