Urdu book · علما اور دینی مدارس

المعهد العالی الاسلامی

Urdu book, p. 310

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ المعہد کے موجودہ اساتذہ کو بظاہر یہ مشکل معلوم ہوگا۔ وہ سوچیں گے کہ ہم تو انگریزی زبان بہت کم جانتے ہیں۔ پھر ہم انگریزی زبان میں تعلیم کس طرح دیں۔ مگر میرے نزدیک اصل اہمیت زبان جاننے کی نہیں ہے بلکہ اپنے مقصد کے بارے میں مجنونانہ جذبہ کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ سرسید احمد خاں انگریزی زبان نہیں جانتے تھے، مگر انہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا انگریزی ادارہ قائم کیا۔ میں نے کہا کہ سرسید کا حال یہ تھا کہ انہوں نے ایک انگریز مستشرق کی انگریزی میں لکھی ہوئی سیرت کی کتاب کا جواب دیا تو پہلے اُس کا ترجمہ اردو زبان میں کروایا۔ اسی طرح ایک بار انہوں نے ”انگریزی“ میں تقریر کی۔ یہ انگریزی تقریر اردو الفاظ میں کاغذ پر لکھ دی گئی تھی۔ پھر اس اردو تحریر کی مدد سے انہوں نے اپنی انگریزی تقریر کی۔ میں نے کہا کہ آج ساری دنیا میں ایسے علما کی ضرورت ہے جو انگریزی زبان میں اسلام کی بات کہہ سکیں ۔ میں نے کانفرنسوں میں دیکھا ہے کہ کچھ غیر عالم مسلمان انگریزی میں اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں مگر غیر عالم ہونے کی بنا پر اُن کی نمائندگی صحیح نہیں ہوتی۔ دوسرے مذہبوں میں ایسے علما کثرت سے موجود ہیں۔ مگر مسلمانوں میں ایسے علما کی شدید کمی ہے جو انگریزی زبان میں درست طور پر اسلام کی نمائندگی کر سکیں ۔ اگر المعہد اس ضرورت کو پورا کرے تو بلا شبہ یہ اُس کا ایک تاریخی کارنامہ ہوگا۔ المعہد کے کچھ طالب علموں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ آج ہی سے انگریزی بولنا شروع کر دیجیے ۔ میں نے افریقہ کے ایک تاجر کی مثال دی۔ انہوں نے تجارتی ضرورت کے تحت انگریزی بولنا شروع کیا۔ ابتدا میں اُن کی انگریزی بہت غلط ہوتی تھی مگر بعد کو وہ صحیح انگریزی بولنے لگے۔ ابتدائی دور میں انہوں نے اس سلسلہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں غلط انگریزی بولتا ہوں تا کہ مجھے صحیح انگریزی بولنا آجائے : I speak incorrect English, so that I may be able to speak correct English.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page