Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 311

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے لامحدود صلاحیت دی ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ منصوبہ بند اور منظم انداز میں اپنی صلاحیت کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلہ میں میں نے مالیگاؤں کے مولانا انیس لقمان ندوی کی مثال دی۔ وہ ماشاء اللہ بیک وقت عربی اور انگریزی دونوں زبان روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ اُس کا راز یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے گھر کو تربیت گاہ بنا دیا۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ ہمیشہ انگریزی میں بولتے تھے اور اپنے برادر نسبتی کے ساتھ ہمیشہ عربی میں۔ اس طرح انہوں نے خود اپنے گھر میں دونوں زبان میں بولنے کی عمدہ مشق پیدا کر لی۔ یہی طریقہ ہر نو جوان اپنے حالات کے اعتبار سے استعمال کر سکتا ہے۔ (الرسالہ، مارچ 2002) اختلاف ایک علمی روش ابن القیم نے اپنی کتاب مدارج السالکین (جلد 2، صفحہ 52) میں اپنے استاذ شیخ ابن تیمیہ سے اختلاف کیا ہے۔ پھر اپنی اس روش کو درست قرار دینے کے لیے لکھا ہے کہ ہد ہد اور اللہ کے نبی سلیمان کے درمیان درجہ کے اعتبار سے کتنا زیادہ فرق ہے ۔ اس کے باوجود قرآن کے مطابق، ہد ہد نے سلیمان سے کہا کہ میں ایک ایسی بات جانتا ہوں جو آپ کو معلوم نہ تھی (27:22)۔ چنانچہ شیخ الاسلام اللہ کے نبی سے زیادہ بڑے عالم نہیں ۔ اور شیخ الاسلام پر اعتراض کرنے والا ہد ہد سے زیادہ کم علم نہیں: فَكَمْ بَيْنَ الْهُدْهُدِ وَنَبِيِّ اللَّهِ سُلَيْمَانَ؟ وَهُوَ يَقُولُ لَهُ: أَحَطْتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ (النمل) - وَلَيْسَ شَيْخُ الإِسْلَامِ أَعْلَمَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ وَلَا المُعْتَرِضُ عَلَيْهِ بِأَجْهَلَ مِنْ هُدْهَدٍ۔ (ڈائری، 6 جون (1997)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page