علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 315
By Maulana Wahiduddin Khan
پہنچتے پہنچتے وہ پورے ایک گھنٹہ لیٹ ہوگئی۔ اس کی وجہ ایک مسافر نے اپنے لفظوں میں اس طرح بتائی: لیٹ ہونے کے بعد پٹی جاتی ہے گاڑی۔ جوٹرین ایک بار لیٹ ہوجائے تو اس کو مزید لیٹ ہونا پڑتا ہے۔ کیوں کہ ریلوے کا اصول یہ ہے کہ جوٹرین اپنے صحیح وقت پر چل رہی ہو اس کو پہلے راستہ دیا جائے۔ اور جوٹرین لیٹ ہوگئی ہو اس کو روک دیا جائے۔ چنانچہ آگے سے آنے والی ٹرین کو راستہ دینے کی خاطر ہماری ٹرین بار بار درمیانی اسٹیشنوں پر روکی جاتی رہی۔ اس طرح ایسا ہوا کہ جوگاڑی ابتداء میں پندرہ منٹ لیٹ تھی وہ آخر میں ایک گھنٹہ لیٹ ہوگئی۔ یہی وسیع تر زندگی کا معاملہ ہے۔ جو زندگی کی دوڑ میں ایک بار پیچھے ہو جائے وہ مزید پیچھے ہوتا چلا جائے گا، خواہ اس نے اپنی سواری کا نام ”سپر فاسٹ“ کیوں نہ رکھ لیا ہو۔ (الرساله، ستمبر 1989) ذہنی صلاحیت حافظہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس سے ہر بات آدمی کو یاد ہو جائے، یعنی تصویری حافظہ (photographic memory)۔ دوسری قسم حافظہ کی وہ ہے جس کو الذاكرة الانتقائية (selective memory) کہا جاتا ہے۔ علمی اعتبار سے دوسری قسم کے حافظہ کی اہمیت زیادہ ہے۔ کیوں کہ حقیقی عالم وہ ہے جس کے اندر تجزیہ اور تحلیل (analysis) کی صفت ہو۔ کسی عالم سے ایک بار کہا گیا کہ فلاں شخص نے پوری صحیح بخاری حفظ کر لی ہے۔ یہ سن کر وہ کچھ دیر چپ رہے۔ اس کے بعد سنجیدگی کے ساتھ کہا کہ ہاں، شہر میں بخاری کا ایک نسخہ اور بڑھ گیا : زَادَتْ نُسْخَةٌ فِي البَلَدِ۔ (ڈائری، 10 جنوری 1996)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader