Urdu book · علما اور دینی مدارس

اختلاف ایک علمی روش

Urdu book, p. 314

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اعتبار سے وہ یہی ہے۔ وہ فکر کا جواب فکر سے دیتی ہے۔ مادی تہذیب کے پرستاروں کا کہنا تھا کہ ”چیزوں سے ہوتا ہے“ اس کے جواب میں تبلیغ نے کہا کہ ”چیزوں سے نہیں خدا سے ہوتا ہے“ یہ گویا ایک نظریہ کے جواب میں دوسرا نظریہ تھا۔ اس جوابی نظریہ نے بہت سے زیر تعلیم نوجوانوں کو متاثر کیا اور وہ مادی فکر سے کٹ کر دینی فکر سے جڑ گئے۔ یہاں کی مسجد دوبارہ زیادہ بہتر اور وسیع انداز میں تعمیر کی جارہی ہے۔ 25 مئی کو صبح روانگی سے پہلے میں مسجد کے اندرونی حصہ میں کھڑا ہوا اس کی تعمیرات کو دیکھ رہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ یہ قدیم مسجد پہلی بار 1947 میں مکمل طور پر ڈھادی گئی تھی۔ اس کے بعد اس کی نئی تعمیر ہوئی۔ یہ نئی تعمیر بھی دوبارہ 1988 میں پوری کی پوری ڈھادی گئی۔ میں نے سوچا کہ ”ڈھانے“ کے اعتبار سے 1947 کا واقعہ اور 1988 کا واقعہ، دونوں بظاہر یکساں ہیں۔ مگر نوعیت کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ پہلا واقعہ دشمنوں نے کیا تھا، دوسرا واقعہ دوستوں نے کیا ہے۔ پہلا انہدام مسجد کو ختم کرنے کے لیے تھا، دوسرا انہدام مسجد کو از سر نو زیادہ بہتر بنانے کے لیے۔ اس دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دو چیزوں کی شکل بظاہر یکساں ہوتی ہے۔ مگر دونوں کی حقیقت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ جو لوگ اس راز کو نہ جانیں، وہ کبھی اس دنیا میں کامیاب روش اختیار نہ کر سکیں گے۔ جس مدرسہ میں میرا قیام تھا، اس سے ریلوے اسٹیشن قریب ہے۔ یہ سفر میں نے بالقصد سائیںکل رکشہ کے ذریعہ کیا۔ اسٹیشن پہنچ کر رکشہ والے سے کرایہ پوچھا تو اس نے دور روپیہ بتایا۔ میں نے فوراً اس کو دو روپیہ دیا اور اسٹیشن میں داخل ہوگیا۔ یہاں مدرسہ کے لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے رکشہ والے کو کرایہ کی رقم ادا کر دی تھی۔ اس قصہ کو سن کر مدرسہ کے ایک استاد حافظ محمد اسماعیل صاحب (35 سال) بولے : دوروپیہ لے جانے سے کون سا اس کا رکشہ چلانا چھوٹ جائے گا، چلائے گا تو وہ رکشہ ہی۔ ہماری ٹرین (سپر فاسٹ ایکسپریس) الورا اسٹیشن پر پہنچی تو وہ پندرہ منٹ لیٹ تھی۔ مگر دہلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page