Urdu book · علما اور دینی مدارس

نائبِ رسول

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے دنوں میں لیے ہوئے تھے۔ مرحوم کی موت نے ان کے دل کے پیمانے کو چھلک دیا اور انہوں نے مرحوم کے تذکرے انتہائی والہانہ انداز میں بیان کیے ۔ ان مضامین کو دیکھ کر میں مرحوم کے ایک معتقد سے پوچھا کہ آپ کے یہ اخبارات ورسائل چوتھائی صدی سے بھی زیادہ مدت سے نکل رہے ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان پرچوں میں کبھی خدا کا تذکرہ بھی اس جوش اور وارفتگی کے ساتھ شائع ہوا ہو۔ مومن کی تعریف یہ ہے کہ وہ خدا کے کارناموں سے سرشار ہو اور خدا کے نام سے اس کے قلب وروح میں حرکت پیدا ہوجائے (الأنفال، 8:2)۔ پھر کیا آپ کے اخبارات ورسائل کے صفحات میں کبھی خدا کے لیے ان غیر معمولی کیفیات کا مظاہرہ ہوا ہے جو آپ نے اپنے رہنما کے بارے میں ظاہر کیا ہے۔ اس کے جواب میں وہ خاموش ہوگئے۔ یہ صرف کسی ایک اسلامی تحریک کا معاملہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارے تمام اداروں اور تحریکوں کا حال یہی ہے۔ ان کی مجلسیں اپنے اکابر کے تذکرے سے معمور ہیں۔ ہر ایک نے اپنے کچھ بڑے بنا لیے ہیں اور جب ان بڑوں کا نام آتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زبان و قلم پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی ہو۔ اس کے برعکس، کسی بھی حلقے میں یہ نظر نہیں آتا کہ وہاں خدا کے چرچے میں لوگوں کو لطف ملتا ہو، خدا کا نام آنے پر لوگوں کے اندر والہانہ کیفیت پیدا ہوتی ہو۔ خدا کی حیثیت بس ایک خشک عقیدے کی ہے۔ جب کہ ان کی اپنی محبوب شخصیتوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کا نام آتے ہی ان کی پوری ہستی جھوم جاتی ہے۔ ان کے دل و دماغ کا چمن کھل اٹھتا ہے۔ ان کے تصور سے ان کی یادوں کی دنیا میں بہار آجاتی ہے۔ خدا اپنے سورج کے ذریعے سارے عالم کو روشن کر رہا ہے مگر اس کو دیکھ کر کسی پر غیر معمولی کیفیت طاری نہیں ہوتی۔ البتہ دنیا کو یہ بتانے میں وہ فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی محبوب شخصیت نے سارے عالم کو اپنی تقریروں سے جگمگا دیا ہے۔ ہواؤں کا نظام دیکھ کر انہیں خدا کی کاریگری پر وجد نہیں آتا۔ البتہ اپنے بزرگوں کے کارنامے بتانے کے لیے وہ یہ شان دار الفاظ پارہے ہیں کہ انہوں نے ساری دنیا میں اپنے فیض کی ہوائیں چلادی ہیں۔ زمین و آسمان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page