علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
میں خدا کی بے پایاں حکمتیں ان کی روح پر رقص طاری نہیں کرتیں۔ البتہ اپنے محبوب قائد کے فکر وتدبر کی عظمت کو بتانے کے لیے لغت کے سارے الفاظ بھی ان کو ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔ خدا نے اپنی بے پناہ طاقت سے زمین و آسمان کو سنبھال رکھا ہے مگر اس کو دیکھ کر ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے نہیں ہوتے۔ البتہ اپنے بڑے ان کو اس طرح دکھائی دے رہے ہیں جیسے وہ تمام ملکوں اور قوموں کو تھامے ہوئے ہیں۔ پانی کا عجیب و غریب نظام جس نے زمین کو ساری معلوم کائنات میں ایک استثنائی کرہ بنا دیا ہے ان کو حیرانی میں مبتلا نہیں کرتا۔ البتہ اپنے پیشواؤں کے کارنامے بیان کرنے کے لیے وہ پورے جوش سے کہہ اٹھتے ہیں کہ ان کے فیض کے چشمے سے ساری دنیا سیراب ہو رہی ہے۔ شاید انسان کسی دکھائی دینے والی چیز کو اپنا مرکزِ محبت بنانا چاہتا ہے اور جب خالق اس کو دکھائی نہیں دیتا تو وہ کسی مخلوق کو اپنا مرکزِ محبت بنا لیتا ہے۔ (الرسالہ، جنوری 1980) صدیقی اسپرٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 11 ہجری میں مدینہ میں ابو بکر صدیق کی خلافت کا واقعہ ہے۔ اس وقت عرب کے کچھ قبائل نے زکاۃ دینے سے انکار کر دیا۔ یہ سادہ طور پر منع زکاۃ کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ اسٹیٹ سے بغاوت کا کیس تھا۔ اس لیے خلیفۂ اوّل ابو بکر صدیق نے بہت شدید انداز میں اس کیس کو ہینڈل کیا۔ چنانچہ مدینہ میں اس تعلق سے مشورہ ہوا۔ خلیفہ اول ابو بکر نے اس موقع پر ایک فیصلہ کن تقریر کی، اس میں انہوں نے یہ تاریخی جملہ کہا: اِنَّهُ قَدِ اِنْقَطَعَ الْوَحْيُ وَتَمَّ الدِّيْنُ أَيُنْقَصُ وَاَنَا حَيٌّ؟ رَوَاهُ رزين (مشكاة المصابيح، حديث نمبر 6034)۔ یعنی، وحی بند ہو چکی ہے، اور دین مکمل ہو گیا ہے، کیا اس میں کمی کی جائے گی، حالاں کہ میں زندہ ہوں۔ یہ جملہ کوئی سادہ جملہ نہیں تھا، بلکہ وہ ایک اسپرٹ کا اظہار تھا، جو ہر سچے مومن کے اندر ہونا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader