Urdu book · علما اور دینی مدارس

الحادی فکر اور اسلام

Urdu book, p. 342

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید کے لوگوں کو سمجھ میں آسکے۔ یہ اسلام کی تعلیمات میں تبدیلی کی بات نہیں ہے، بلکہ دورِ جدید کی زبان میں اسلام کو متعارف کرانے کی بات ہے۔ س: دورِ جدید میں پھیلنے والے لامذہبیت اور سیکولرزم کا سبب کیا ہے، آپ کی نظر میں اس کا علاج کیا ہوسکتا ہے؟ ج: یہ بات جو کہی جاتی ہے، وہ دراصل اسلام کے اعتبار سے نہیں ہے۔ بلکہ اسلام کے روایتی ورژن کے اعتبار سے ہے۔ اسلام کے روایتی ورژن کے اعتبار سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ اسلام کا تعلق زندگی کے سارے پہلو سے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی سوچ سب سے بڑا سبب ہے کہ مسلمانوں کا ذہین طبقہ کیوں سیکولرزم کی طرف مائل ہورہا ہے۔ مگر یہ سوچ بذات خود غلط ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اسلام کا تعلق اصلاً انسان کے مذہبی امور سے ہے، جیسا کہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا تھا: إِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ بِهِ، وَإِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَى (مسند احمد، حدیث نمبر 24920)۔ یعنی، کوئی چیز اگر دنیا کے معاملے سے متعلق ہو تو تم اس کو زیادہ جانتے ہو اور اگر وہ بات دین کے متعلق ہو تو اس کی ذمے داری میرے اوپر ہے۔ مذہبی دائرے کے سوا اسلام انسان کو پوری آزادی دیتا ہے۔ مثلاً روایتی اسلام میں رسول اللہ کے بارے میں کوئی کریٹیکل کمنٹ دینا شتم رسول کا حکم رکھتا ہے، اور شتم رسول ایک ایسا جرم ہے، جس کی سزا قتل ہے۔ جب کہ قرآن وسنت دونوں میں اس پر سزا کا براہ راست ثبوت نہیں ملتا۔ تفصیل کے لیے میری کتاب، شتم رسول کا مسئلہ ملاحظہ ہو۔ شتم رسول پر سزا آج کے انسان کے لیے قابل قبول نہیں۔ موجودہ زمانے کی فکر، اظہارِ خیال کی آزادی (freedom of expression) پر قائم ہے۔ اس بنا پر لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسلام کے ساتھ دنیا میں ترقی نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ اسلام ان مسائل کی بنیاد پر دوسری قوموں سے اتحاد میں رکاوٹ ہے، اور اتحاد کے بغیر ترقی کا کوئی پلان نہیں بنایا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page