Urdu book · علما اور دینی مدارس

الحادی فکر اور اسلام

Urdu book, p. 341

By Maulana Wahiduddin Khan

الحادی فکر اور اسلام مندرجہ ذیل انٹرویو ریاض سعودی عرب، سے شائع ہونے والے عربی مجلہ اوج ( مطبوعہ شمارہ نمبر 4، 2018/ 1439) نے لیا تھا۔ س: مسلمانوں کی اکثریت یہ محسوس کرتی ہے کہ اس وقت مادی و الحادی فکر اور اسلام و ایمان کے درمیان ایک آئیڈیولوجیکل ٹکراؤ ہے۔ چوں کہ ہر ٹکراؤ کا ایک اسلحہ ہوتا ہے، تو ان مادی اور الحادی فکر رکھنے والوں کا مشہور ہتھیار کیا ہے، جس کے ذریعہ وہ دورِ جدید میں اہل ایمان اور مسلم نو جوانوں کو متاثر کرتے ہیں؟ ج: اس سلسلے میں اصولی بات یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں لوگوں کے اندر تبدیلی آئی ہے۔ بیسویں صدی کا دور نظریاتی دور تھا۔ اس زمانے میں چیزوں کو نظریاتی اعتبار سے جج (judge) کیا جاتا تھا۔ مگر مارکسزم کے زوال کے بعد یہ ذہن ختم ہو گیا۔ اب ساری دنیا میں چیزوں کو ان کی افادیت کے اعتبار سے دیکھا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اگر نظریے کا حوالہ دیں تب بھی حقیقت میں ان کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ دنیا کی ترقی کا راز کیا ہے۔ مادی ترقی کے اعتبار سے وہ کس طرح آگے بڑھ سکتے ہیں۔ مسلمان چوں کہ ابھی تک روایتی دور میں جی رہے ہیں، اس لیے نئے دور کے لوگوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام کے ساتھ ترقی کا سفر جاری نہیں ہوسکتا۔ لوگ خواہ الفاظ جو بھی بولیں، لیکن پس منظر میں جو بات ہوتی ہے، وہ یہی ہے کہ اسلام کے روایتی ورژن کو لے کر ترقی کا سفر طے نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام کے روایتی ورژن کی پیروی کرنے سے مسلمان مستقل طور پر پسماندہ کمیونٹی بنے رہیں گے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کو اس کے روایتی ورژن سے نکال کر ماڈرن ایج کے اعتبار سے اس کو متعارف کرانا ہوگا۔ تاکہ اسلام دور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page