الحادی فکر اور اسلام
Urdu book, p. 344
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی چیز اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن مسلمان ہر چیز کو اسلام کے خلاف سمجھنے لگتے ہیں، اور ہر چیز کے خلاف لڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً جب پرنٹنگ پریس آیا تو ابتداء میں ترکی کے شیخ الاسلام نے اس کے حرام ہونے کا فتویٰ دیا۔ یہ دور جدید سے علما کی بے خبری کا مسئلہ تھا، نہ کہ غیر مسلموں کی اسلام سے مخالفت کا۔ اس لیے ضرورت یہ ہے کہ مسلمان اپنی سوچ کو بدلیں۔ س : آپ کے بچپن یا جوانی کا کوئی واقعہ، جس کو آپ ابھی تک یاد کرتے ہوں، اور اس کا آپ کی شخصیت پر آج تک اثر ہو؟ ج : میں تو سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ جو واقعہ مجھے یاد رہتا ہے، وہ وہی سبق ہے جو میرے استاذ امین احسن اصلاحی سے مجھے ملا۔ ایک روز قرآن کی کلاس میں یہ آیت سامنے آئی: أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (17:88)۔ یعنی، کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا گیا۔ استاذ محترم نے اس موقع پر طلبہ سے پوچھا کہ اونٹ کے سم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے ہوتے ہیں۔ یعنی بیل کی مانند پھٹے ہوتے ہیں یا گھوڑے کی مانند جڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت ہماری جماعت میں تقریباً 20 طالب علم تھے۔ مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ ہر ایک اٹکل پچو سے کبھی ایک جواب دیتا، اور کبھی دوسرا جواب۔ اس موقع پر استاد محترم نے ہم لوگوں کو سمجھایا کہ تمھارے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم لوگ اونٹ کے سم کی نوعیت نہیں جانتے۔ پھر انہوں نے عربی کا مقولہ سنایا: لَا أَدْرِي نِصْفُ العِلْمِ (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے)۔ اس کی تشریح انہوں نے کی کہ اگر تم لوگ یہ جانتے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر ہو تو گویا کہ اس معاملہ میں تمھارے پاس آدھا علم ہوتا۔ کیوں کہ اپنی لاعلمی کو جاننے کے بعد تمھارے اندر یہ شوق پیدا ہوتا کہ تم اپنے علم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader