الحادی فکر اور اسلام
Urdu book, p. 345
By Maulana Wahiduddin Khan
کو مکمل کرنے کے لیے یہ معلوم کرو کہ اونٹ کے سم کیسے ہوتے ہیں۔ اگر لا ادری (میں نہیں جانتا) کا شعور تمھارے اندر بیدار ہوتا تو اونٹ پر نظر پڑتے ہی تم اس کے سم کو غور سے دیکھتے، اور پھر تم اس کے نہ جاننے کو جاننا بنا لیتے۔ مدرسہ کا یہ واقعہ میرے لیے اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملہ میں اپنی ناواقفیت کو جانوں، تا کہ میں اس کو واقفیت بنا سکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتداء مدرسہ سے ملاتا تھا۔ بعد کو میں نے اس موضوع پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً اسپرت آف انکوائری (Spirit of Inquiry)۔ ان سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذبہ تمام علمی ترقیوں کی اصل بنیاد ہے۔ اس کی ایک مشہور مثال یہ ہے کہ ہزاروں لوگوں نے سیب کو درخت سے گرتے دیکھا تھا۔ مگر اس معاملہ میں وہ اپنے ’’لا ادری‘‘ کو نہیں جانتے تھے، اس لیے وہ حقیقت سے بے خبر رہے۔ نیوٹن پہلا شخص ہے، جس نے اس معاملہ میں اپنے ’’لا ادری‘‘ کو جانا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ’’ادری‘‘ کے درجہ تک پہنچ گیا۔ اس کے برعکس، مسلم علماء دور جدید کو نہیں جانتے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے فتویٰ دے کر یہ ظاہر کیا کہ أَدْرِي أَنَّ العَصْرَ الجَدِيدَ حَرَامُ (میں جانتا ہوں کہ دور جدید حرام ہے)۔ جب کہ انھیں کہنا چاہیے تھا کہ لَا أَدْرِي مَا هُوَ العَصْرُ الجَدِيدُ (میں نہیں جانتا کہ دور جدید کیا ہے)۔ اس کے بعد وہ اس قابل ہوتے کہ دور جدید کو جانیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ جب انہوں نے دور جدید کو جانے بنا ایک قدم اٹھایا تو اس کے نتیجہ میں انہوں نے اس ادری (میں جانتا ہوں) کلچر کی بنیاد پر ہر چیز کو حرام قرار دے دیا، اور یہی وہ چیز ہے جو سیکولر تعلیم یافتہ مسلمانوں کے اسلام سے دور ہونے کا سبب بن رہی ہے۔ جب کہ میں ہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader