Urdu book · علما اور دینی مدارس

سوال و جواب

Urdu book, p. 353

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہن بنتا ہے جس کو جہادی ذہن کہا جاتا ہے۔ مدارس کے لوگوں کو امت مسلمہ کے مسائل کے سلسلہ میں پرامن عمل کا کوئی شعور نہیں۔ وہ دور جدید کے اس امکان سے بے خبر ہیں کہ ہر میدان میں حصہ داری (sharing) کے اصول پر کام کیا جانا چاہیے۔ مدارس کے لوگ اب تک شعوری یا غیر شعوری طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ غیر مسلم لوگ کافر ہیں۔ غیر مسلم ممالک دارالکفر یا دارالحرب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے خلاف دشمنی اور سازش میں مشغول ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کی طرف سے اب تک جہاد کے نام پر متشددانہ سرگرمیوں کی کھلی مذمت نہیں کی گئی اور نہ یہ اعلان کیا گیا کہ یہ سرگرمیاں جہاد نہیں بلکہ فساد ہیں۔ ایسی حالت میں مدارس کو اس معاملہ میں مکمل طور پر بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔ (الرسالہ، جون 2004) سوال الرسالہ جون 2004 کے صفحہ 28، سوال نمبر 12 کے جواب میں آپ نے فرمایا "مدارس پر الزام لگانا غلط ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ مدارس کے نظام میں عین وہی ذہن بنتا ہے جس کو جہادی ذہن کہا جاتا ہے۔" اور جواب کے آخری جملہ میں آپ نے تحریر فرمایا ہے "ایسی حالت میں مدارس کو اس معاملہ میں مکمل طور پر بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔" جولائی 2004 کے الرسالہ میں صفحہ 30-29 پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا "میں خود ایک مدرسہ کا پروڈکٹ ہوں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مدرسہ کا کوئی تعلق ٹررزم سے نہیں ہے۔ کم از کم مجھے کوئی ایسا مدرسہ معلوم نہیں جہاں مدرسہ کے نظام کے تحت ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ صرف تعلیم کے لیے ہے۔ وہاں کے نصاب یا وہاں کے نظام کا کوئی تعلق اس چیز سے نہیں جس کو آج کل ٹررزم کہا جاتا ہے۔" ایک طرف آپ کو اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مدرسوں میں صرف دینی تعلیم دی جاتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page