سوال و جواب
Urdu book, p. 355
By Maulana Wahiduddin Khan
استثنائی طور پر کبھی پیش آتی ہے۔ مزید یہ کہ اس دفاعی کارروائی کا حق صرف باضابطہ طور پر قائم شدہ حکومت کو ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کو ہرگز مسلح جہاد کی اجازت نہیں۔ جس شخص نے میری تحریروں کو پڑھا ہو اس کو میرا یہ نقطہ نظر پوری طرح معلوم ہوگا۔ البتہ اسی کے ساتھ میرا یہ خیال ہے اور اس کو میں نے بار بار اپنی تحریروں میں واضح کیا ہے کہ ہندوستان کے مدارس میں عملی عسکریت یا عملی ٹررزم کی نہ تو تربیت ہوتی ہے اور نہ یہ مدارس اس قسم کی کسی عملی تحریک کا اڈہ ہیں۔ البتہ بعض دوسرے ملکوں میں ایسے مدارس ضرور پائے جاتے ہیں جو عملی عسکریت میں ملوث ہیں۔ میں نے ان مدارس پر تنقید کی ہے اور یہ لکھا ہے کہ کسی بھی مدرسہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ عملی طور پر وہ عسکریت کا نظام چلائے۔ بالفرض کسی ملک میں دفاعی جہاد کی ضرورت پیدا ہو جائے تب بھی عملی دفاع کی ذمہ داری صرف قائم شدہ حکومت کی ہوگی۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ، کسی مدرسہ یا کسی غیر حکومتی تنظیم کے لیے ہرگز یہ جائز نہیں کہ وہ جہاد کے نام پر مسلح جدوجہد شروع کردے۔ (الرسالہ، جولائی 2005) سوال کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے اسلامی مدرسوں میں تشدد اور علیحدگی پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس طرح وہ ملک میں منفی رول ادا کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں ان مدرسوں کو باقی رکھنے کا کیا جواز ہے (محمد عمران، راشٹریہ سہارا، دہلی) جواب یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ملک میں تشدد پسندی اور علیحدگی پسندی کا رجحان ہے۔ مگر وہ زیادہ تر سیاسی لیڈروں کا پیدا کردہ ہے، ان کا مدرسوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ان مدرسوں میں دین اور اخلاق کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان مدرسوں میں ایسے لوگ تیار کیے جاتے ہیں جو اصول پسند اور با کردار ہوں۔ اور اسی کے ساتھ وہ سماج میں مارل ٹیچر بن کر رہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader