سوال و جواب
Urdu book, p. 356
By Maulana Wahiduddin Khan
سکیں۔ میں خود مدرسہ کے اسی تعلیمی نظام کی پیداوار ہوں۔ اور میں پورے اعتماد کے ساتھ اس قسم کے الزام کی تردید کرسکتا ہوں۔ سیاست اور ٹی وی (الیکٹرانک میڈیا) یہ دو چیزیں لوگوں کے کردار کو بری طرح تباہ کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں مدرسہ کے نظام کو مزید طاقتور کرنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ موجودہ اخلاقی بگڑ کے سیلاب کو روک سکیں ۔ (الرسالہ، فروری 1999) سوال مدارس اسلامیہ کو اپنے وقار کے تحفظ اور ان سازشوں کے نتائج سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ جواب میرے نزدیک سازش کا تصور محض ایک مفروضہ ہے۔ اسی طرح وقار کے تحفظ کا سوال بھی ایک فرضی سوال ہے۔ اس کا سادہ سا ثبوت یہ ہے کہ 1947 کے بعد ہر مدرسہ نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ اگر مذکورہ مفروضہ درست ہوتا تو مدارس کی یہ ترقیاں ہرگز ممکن نہ ہوتیں۔ اس معاملہ میں مدارس کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ سازش کے فرضی وہم سے باہر آ جائیں اور معتدل ذہن کے تحت اپنا کام کریں۔ مدارس، اسلامی تعلیم کا مرکز ہیں ۔ اسلامی تعلیم اپنے آپ میں پرکشش ہے ۔ وہ یہ طاقت رکھتی ہے کہ خود اپنے زور پر انسان کو اپنا گرویدہ بنا سکے ۔ ایسی حالت میں موجودہ زمانہ میں مدارس کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں وہ اصلاً خود مدارس کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہیں۔ اس کمی کا ایک سبب یہ ہے کہ مدارس اسلامیہ کے لوگ اپنی روایات کے تحت بند ماحول میں رہتے ہیں۔ وہ خارجی دنیا سے اختلاط نہیں کرتے۔ اس بنا پر ان کا حال یہ ہو گیا ہے کہ وہ نہ آج کی دنیا کو جانتے ہیں اور نہ جدید حالات کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader