Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

میں لوگوں تک پہنچانا ہے۔ عالمی زبانوں میں اسلام کا پرامن پیغام ہر طرف فلڈ (flood) کر دینا ہے ۔ یہاں تک کہ ہر عورت اور ہر مرد یہ جان لے کہ خدا کا دین امن کا دین ہے، تشدد سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ قرآن کے شروع میں بتایا گیا ہے کہ اللہ ، رب العالمین ہے، وہ رحمتہ للعالمین ہے۔ اللہ کا اور اللہ کے دین کا کوئی تعلق نفرت و تشدد سے نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سچے اہل ایمان پکار اٹھیں، اور یہ کہیں کہ کیا اللہ کے دین کی تصویر پر تشدد دین کی بنا دی جائے گی، حالاں کہ میں زندہ ہوں ۔ یہی صدیقی اسپرٹ ہے، اور یہی آج کا سب سے مطلوب کام ۔ (الرسالہ، مارچ 2015) حقیقی عالم عبداللہ بن المبارک (وفات 181ھ) کا ایک قول ہے: لَا يَزَالُ الْمَرْءُ عَالِماً مَا طَلَبَ الْعِلْمَ ، فَإِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ عَلِمَ ، فَقَدْ جَهِلَ (الجالستہ و جواہر العلم، اثر نمبر (308) - یعنی، آدمی اس وقت تک عالم رہتا ہے جب تک وہ علم سیکھتا رہے۔ جب وہ گمان کرے کہ وہ عالم ہو گیا تو پھر وہ جاہل ہو گیا۔ عباس محمود العقاد کہا کرتے تھے کہ علم پڑھنے کا نام ہے ۔ وہ بہت افسوس کرتے تھے کہ اکثر لکھنے والوں کا یہ حال ہے کہ وہ جتنا پڑھتے ہیں، اس سے زیادہ وہ لکھتے ہیں (العَقَّادُ كَانَ يَقُولُ الْعِلْمُ هُوَ الْقِرَاءَةُ ، وَكَانَ يَأْسَفُ أَبْلَغَ الْأَسَفِ ، لِأَنَّ كَثِيرًا مِنَ الْكُتَّابِ يَكْتُبُونَ أَكْثَرَ مِمَّا يَقْرَؤُونَ) رابطۃ العالم الاسلامی، رجب 1405 ھ۔ (اوراق حکمت، ڈائری ، 17 اپریل 1985)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page