Urdu book · علما اور دینی مدارس

صدیق اسپورٹ

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

چاہیے۔ وہ یہ کہ کبھی ایسا موقع آتا ہے کہ دین کے معاملے میں کرائسس کی نوبت آجاتی ہے۔ اس وقت ایک مردِ مومن کا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ ایسے نازک موقع پر مردِ مومن کو اس کی عارفانہ اسپرٹ اس پر ابھارے گی کہ وہ پورے عزم کے ساتھ یہ جملہ بولے ــ کیا دین میں کمی کی جائے گی، حالاں کہ میں موجود ہوں۔ یہ قول اگر کسی مردِ مومن کے دل کی گہرائی سے نکلے تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ فضا بدل جاتی ہے، اور اہلِ اسلام کی گاڑی دوبارہ پٹری پر چلنا شروع ہو جاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ لوگوں کے لیے اپنی جان، اپنا خاندان، اپنی جائیداد، اپنے معاشی مفادات سب سے قیمتی ہوتے ہیں۔ انھیں چیزوں کو ایک انسان سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ ہر دوسری چیز کے مقابلہ میں وہ ان کو ترجیح دیتا ہے اور اپنا سب کچھ اس کے لیے نثار کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جس کے اندر ایمان اور معرفت کی اسپرٹ پیدا ہو جائے اس کی زندگی ایمان کی بنیاد پر قائم ہو جاتی ہے۔ اللہ کا خوف و محبت، اللہ کی یاد، اللہ کی نعمتوں کا شکر، اللہ کے لیے حوالہگی کا جذبہ، وغیرہ اس کے اندر اتنا بڑھا ہوا ہو کہ ہر دوسری چیز اس کو کمتر لگے۔ یہی صدیقی اسپرٹ ہے۔ (الرسالہ، اپریل 2021) جب دین کے لیے کوئی سنگین مسئلہ پیدا ہو تو سچا مومن تڑپ اٹھتا ہے۔ اللہ کے بھروسہ پر وہ اکیلا ہی دین کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی واقعہ اکیسویں صدی میں اسلام کے لیے پیدا ہوا ہے، اور دوبارہ ضرورت پیش آگئی ہے کہ کچھ اہلِ ایمان صدیقی اسپرٹ کے ساتھ دین کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دین کی تصویر کو بگاڑ دیا گیا ہے۔ اللہ کا دین مکمل طور پر دینِ امن (religion of peace) ہے، لیکن خود مسلمانوں کے غلط عمل کے ذریعے اس کو دینِ تشدد (religion of violence) بنا دیا گیا ہے۔ یہ صورتِ حال ایسی ہے جس پر ہر صاحبِ ایمان تڑپ اٹھے، ہر صاحبِ ایمانِ خدا کے دین کو دوبارہ امن کا دین بنانے کے لیے کامل طور پر سرگرم ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے قرآن کا ترجمہ ہر زبان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page