سوال و جواب
Urdu book, p. 367
By Maulana Wahiduddin Khan
ان تمام رہنماؤں کی مشترک کوتاہی یہ تھی کہ وہ صرف سامنے کی باتوں کو دیکھ سکے، وہ ان اضافی اسباب (relative factors) کو دیکھنے سے عاجز رہے جو آخر کار فیصلہ کن بن کر ان کی تمام خوش فہمیوں کو تہ و بالا کر دینے والے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان تمام رہنماؤں کی ہنگامہ خیز تحریکیں مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کے سوا کوئی اور نتیجہ پیدا نہ کر سکیں۔ اسی حقیقت کو حضرت عمر فاروق نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ عقل مند وہ نہیں ہے جو شر کے مقابلہ میں خیر کو جا نے۔ عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کم تر شر کون سا ہے: لَیْسَ الْعَاقِلُ مَنْ یَعْرِفُ الْخَیْرَ مِنَ الشَّرِّ وَلَکِنَّهُ الَّذِی یَعْرِفُ خَیْرَ الشَّرَّیْنِ (ذم الھوی لابن الجوزی، صفحہ 8)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader