سوال و جواب
Urdu book, p. 366
By Maulana Wahiduddin Khan
(168 - مگر اس کے ساتھ اس معاملہ کا ایک اور پہلو تھا جو بظاہر معاہدہ کے وقت دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ وہ یہ کہ کسی بھی طرح اگر ایسا ہو کہ باہمی ٹکراؤ ختم ہو جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان معتدل فضا میں انٹرایکشن (interaction) ہونے لگے ، تو لوگوں کے اندر اسلام کا مثبت تعارف عام ہو گا ۔ یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے گا جب کہ بظاہر دشمنی پر آمادہ لوگ بھی اسلام کے قریبی مددگار بن جائیں گے (فصلت، 34: 41)۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے بعد عملاً پیش آیا۔ گویا حدیبیہ کے معاہدہ کا ایک پہلو وہ تھا جس کو ہر صاحب بصارت دیکھ رہا تھا۔ لیکن اس کا ایک اور اہم تر پہلو وہ تھا جس کو صرف صاحب بصیرت ہی دیکھ سکتا تھا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا (48:27)۔ یعنی ، اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہیں جانی۔ اضافی قدر یا ریلیٹیو ویلو (relative value) کو جاننے کی اہمیت یہ ہے کہ اکثر حالات میں یہی پہلو عملی اعتبار سے فیصلہ کن بن جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم مفکرین کی سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ وہ اس حکیمانہ بصیرت سے خالی تھے ۔ وہ سامنے کی چیزوں کو دیکھ کر اقدامات کرتے رہے ۔ وہ ان دوسرے پہلوؤں کو دیکھنے سے قاصر رہے جو آخر کار فیصلہ کن بننے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تمام اقدامات نہ صرف بے نتیجہ رہے بلکہ وہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے والے (counter productive) ثابت ہوئے ۔ مثال کے طور پر مصر اور پاکستان اور ایران میں اسلام پسندوں کا یہ سمجھ لینا کہ ان کی معاصر حکومت تمام خرابیوں کی جڑ (source of all evils) ہے۔ اگر وہ کسی طرح موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹا دیں تو وہاں شاندار طور پر اسلامی نظام قائم ہو جائے گا ۔ اسی طرح برصغیر ہند میں مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھ لیا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جغرافی تقسیم مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader