Urdu book · علما اور دینی مدارس

اصل کام

Urdu book, p. 376

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے اپنے آپ کو نااہل ثابت کر رہا ہے۔ دعوتی کلام کے لیے مدعو کے حق میں محبت کی نفسیات درکار ہے، نہ کہ نفرت کی نفسیات۔ اس لیے ہمارے لکھنے والے جب تک اپنے سینہ کو منفی نفسیات سے خالی نہ کریں، ان کا دعوتی لٹریچر تیار کرنا ایک جرم ہے، نہ کہ کوئی واقعی اسلامی خدمت۔ سلمان رشدی جیسے واقعات کے مقابلہ میں مسلم رہنماؤں کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ اس کو مرتد قرار دے کر ان کے اوپر اسلامی سزا کے نفاذ کا اعلان کریں۔ اس کے برعکس، ان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ان کے کیس کو سمجھیں ۔ ان کے ذہنی کنفیوزن کا مطالعہ کریں۔ ان کے فکری و نظریہ سے پوری واقفیت حاصل کریں۔ اس طرح کے گہرے مطالعہ کے بعد ان کا فرض ہے کہ وہ اسلام پر ایسی کتابیں تیار کریں جو اس قسم کے لوگوں کو مطمئن کرنے والی ہوں۔ جو ان کی سوئی ہوئی فطرت کو جگا کر انہیں ان کے رب کے قریب کر سکیں۔ موجودہ زمانہ کے منحرف ذہنوں میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو مکانی طور پر اس کے لیے تیار ہیں کہ وہ اسلام کو اپنے دل کی آواز پا کر اسے قبول کر لیں۔ مگر یہ امکان صرف اس وقت واقعہ بن سکتا ہے جب کہ دین حق کو اس کی مانوس زبان اور ان کے قابل قبول اسلوب میں ان کے سامنے پیش کر دیا جائے ۔ ایک پیاسا آدمی پانی کا گلاس صرف اس وقت اپنے ہاتھ میں لیتا ہے جب کہ اسے یقین ہو کہ اس گلاس کے اندر جو چیز ہے وہ پانی ہے۔ اسی طرح ہر پیدا ہونے والا بلا شبہ حق کا طالب ہے۔ مگر جو تحفہ اس کے سامنے پیش کیا جائے اس کی بابت پہلے اس کو اس کی مانوس زبان میں یہ یقین دلانا ہوگا کہ یہ وہی مطلوب چیز ہے جس کو تم اپنی فطرت کے زیر اثر تلاش کر رہے تھے۔ (شتم رسول کا مسئلہ)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page