اصل کام
Urdu book, p. 375
By Maulana Wahiduddin Khan
بارے میں ایک رائے رکھتے ہوں۔ مگر جہاں اس بارے میں دونوں فریق کی سوچ الگ الگ ہو، وہاں اعتقادی طریقہ استدلال بالکل بے اثر اور بے قیمت ہو جاتا ہے۔ جدید نسل جو جدید افکار سے متاثر ہے، اس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی پیشگی مسلّمہ پر یقین نہیں رکھتی۔ اس کا تصور یہ ہے کہ جو دعویٰ کیا جائے اس کو سائنس اور تاریخ کے معلوم حقائق کی بنیاد پر ثابت ہونا چاہیے۔ گویا پہلے طریقہ استدلال کی بنیاد اگر اعتقادی مسلّمات پر قائم ہے تو دوسرے طریقہ استدلال کی بنیاد عقلی مسلّمات پر۔ مگر موجودہ زمانہ میں عربی، فارسی، اردو اور انگریزی میں ہمارے لکھنے والوں نے جو کتابیں لکھی ہیں، ان میں کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں اسلام کو حقیقی معنوں میں جدید انسان کے اپنے مسلّمات کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہو۔ دوسری کمزوری جو ان تمام کتابوں میں مشترک طور پر پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کتابیں افضلیت اور برتری کی اصطلاحوں میں لکھی گئی ہیں۔ ان کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہ ہوتا ہے کہ اسلام یا مسلمانوں کی برتری ثابت کریں۔ اس قسم کا لٹریچر کچھ مسلمانوں کو خوش کر سکتا ہے مگر وہ جدید ذہن کے لیے ہرگز مؤثر نہیں ہوسکتا۔ جدید ذہن کو اپیل کرنے والا لٹریچر صرف وہ ہوگا جس میں یہ دکھایا گیا ہو کہ اسلام کی تعلیمات عین فطرت کے مطابق ہیں۔ اسلام اور انسانی فطرت دونوں ایک دوسرے کا مٹنی (counter part) ہیں ۔ تیسری کمزوری جو جدید پید شدہ لٹریچر میں بہت زیادہ عام ہے، وہ یہ کہ یہ کتابیں دعوت کی زبان میں نہیں لکھی گئیں، بلکہ عداوت کی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں کے لکھنے والے تقریباً سب کے سب اپنے سینہ میں یہ احساس لیے ہوتے ہیں کہ موجودہ دنیا اسلام کی دشمن ہو گئی ہے۔ ہر طرف اسلام کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ ہر قوم اسلام کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔ اس نفسیات کے تحت جو لٹریچر تیار کیا جائے وہ عداوتی لٹریچر ہوگا، نہ کہ دعوتی لٹریچر۔ جو شخص اپنے سینہ میں مدعو کے خلاف نفرت لیے ہوئے ہو وہ پہلے مرحلہ ہی میں اس کام کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader