علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ صورت حال بے حد تشویش ناک ہے۔ اس صورت حال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ زندگی کے مادی شعبوں میں تو بڑی بڑی نمائشی ترقیاں ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں، مگر علمی یا ذہنی ترقی کا عمل رک گیا ہے۔ حال میں امریکہ کے بڑے بڑے دولت مندوں کے بارے میں ایک جائزہ شائع ہوا ہے۔ اس کے مطابق، امریکہ کے ارب پتی قسم کے لوگ ایک نئی بیماری سے دوچار ہیں۔ اس بیماری کو افلوئنزا (affluenza) کا نام دیا گیا ہے، یعنی خوش حالی کی بیماری۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے ارب پتی خاندانوں کے لڑکے اور لڑکیوں کا حال یہ ہے کہ وہ جسمانی اعتبار سے تو خوب فربہ ہو گئے ہیں، مگر وہ ذہنی بونے پن کا شکار ہیں۔ اُن کا عقلی ارتقا زیادہ نہ ہو سکا۔ (الرساله، اگست 2007) اسلامی تحریک کا ہدف تبلیغی جماعت کے سابق امیر مولانا انعام الحسن کاندھلوی (وفات 1996ء) نے کہا تھا کہ: ہماری تبلیغی تحریک ایک مسجد وار تحریک ہے۔ مولانا انعام الحسن کاندھلوی کا یہ قول تبلیغی جماعت کی صحیح تصویر کو بتاتا ہے۔ تبلیغی جماعت کی تحریک اصلاً مسلمانوں کی دینی اصلاح کی تحریک ہے، جو مسجدوں کو بنیاد بنا کر چلائی جا رہی ہے۔ مسجد وار تحریک کا مطلب ہے ۔ مسجد اورینٹڈ مومنٹ (Masjid-oriented movement) ۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو تحریکیں اٹھیں، وہ مختلف پہلوؤں سے اسی قسم کی تحریکیں تھیں ۔ مسجد وار تحریک، مدرسہ وار تحریک، ملت وار تحریک، تحفظ وار تحریک، مناظرہ وار تحریک، فخر وار تحریک، سیاست وار تحریک، وغیرہ۔ اس قسم کی تحریکوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے درمیان پھیلا ہوا ہے، اور اکیسویں صدی میں بھی اس قسم کی تحریکوں کا تسلسل جاری ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader