Urdu book · علما اور دینی مدارس

اعلائے کلمۃ الاسلام

Urdu book, p. 383

By Maulana Wahiduddin Khan

سٹائن (وفات 1955) سے پہلے کا ہے اور دوسرا، البرٹ آئ سٹائن کے بعد کا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نیوٹن سے لے کر آئ سٹائن تک سائنس کی تحقیق اُس دنیا تک محدود تھی جس کو عالم کبیر (macroworld) کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ دنیا کی تمام چیزیں اپنے آخری تجزیے میں ایٹم کا مجموعہ ہیں۔ اور ایٹم ایک ایسی چیز ہے جس کو تولا اور ناپا جا سکتا ہے۔ اس بنا پر اُس دور میں یہ نظریہ بنا کہ حقیقی وجود صرف اسی چیز کا ہے جو تو لی اور ناپی جا سکے ۔ جو چیز تول اور ناپ میں نہ آئے اس کا کوئی حقیقی وجود بھی نہیں۔ مگر آئن سٹائن کے زمانے میں ایک انقلابی واقعہ پیش آیا۔ اس زمانے میں یہ ہوا کہ انسانی علم میکر و ورلڈ (macroworld) سے گزر کر مائکر و ورلڈ (microworld) تک پہنچ گیا۔ اب معلوم ہوا کہ ایٹم ہماری دنیا کا آخری ذرہ نہیں۔ خود ایٹم بھی ایک مجموعہ ہے، جو الیکٹران اور پروٹان کے ملنے سے بنا ہے۔ مگر تحقیق نے بتایا کہ الیکٹران، ایٹم کی طرح کوئی مادی ذرہ نہیں، بلکہ الیکٹران غیر مرئی لہروں (waves) کا نام ہے۔ ان لہروں کو دیکھا نہیں جا سکتا۔ ان کے بارے میں صرف یہ ممکن ہے کہ بالواسطہ اثرات کے ذریعے اُن کے وجود کے بارے میں کچھ اندازے قائم کیے جاسکیں۔ ایٹم کا لہروں میں تبدیل ہو جانا، سائنس میں ایک بے حد اہم واقعہ تھا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ استنباط (inference) کو ایک ٹھوس علمی بنیاد حاصل ہوگئی۔ اب یہ مان لیا گیا : Inferential argument is as valid as direct argument. منطق میں اس تبدیلی نے سائنس کی دنیا میں انقلاب پیدا کر دیا۔ آئن سٹائن سے پہلے تک یہ کہا جاتا تھا کہ مذہب میں صرف سیکنڈری آرگومنٹ (secondary argument) ممکن ہے۔ مذہب میں پرائمری آرگومنٹ (primary argument) ممکن نہیں۔ چوں کہ مذہب یا اسلام کے عقائد پر تمام استدلالات استنباطی نوعیت کے ہوتے ہیں، اور مذکورہ تقسیم میں استنباط ایک سیکنڈری استدلال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے مذہب کو ان علوم میں شامل کر لیا گیا تھا جن کو (speculative) سائنسیر کہا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page