اعلائے کلمۃ الاسلام
Urdu book, p. 384
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر ایٹم کے ٹوٹنے کے بعد جب منطق میں تبدیلی آئی اور استنباطی استدلال کو عین سائنسی استدلال کا درجہ مل گیا تو اس کے بعد مذہب یا اسلام کی علمی بنیاد میں بھی تبدیلی آگئی۔ اب مذہبی یا استنباطی استدلال کے طریقے کو پرائمری استدلال کا درجہ حاصل ہو گیا، جب کہ اس سے پہلے اس کو صرف سیکنڈری استدلال کا درجہ ملا ہوا تھا۔ اب خود علمِ انسانی میں نئے واقعات پیش آنے لگے۔ مثال کے طور پر سائنس کے دورِ اوّل کے ذہن کو لے کر برطانیہ کے جولین ہکسلے (وفات 1975) نے ایک کتاب لکھی، جس میں دکھایا گیا تھا کہ اب انسان کو خدا کی ضرورت نہیں، اب انسان خود ہی اپنا سب کچھ بن سکتا ہے۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہ تھا: Man Stands Alone by Julian Huxley (1941) اس کے بعد امریکہ کے ڈاکٹر کریسی ماریسن (وفات 1951) نے ایک اور کتاب چھاپی، جس میں سائنسی حقائق کی روشنی میں دکھایا گیا تھا کہ انسان صرف مخلوق ہے، وہ خدا کا درجہ نہیں لے سکتا۔ اس دوسری کتاب کا ٹائٹل یہ تھا: Man Does Not Stand Alone by A. Cressy Morrison (1944) اس طرح برٹرینڈ رسل (وفات 1975) نے اپنی کتاب: Why I am not a Christian میں لکھا کہ آرگومنٹ فرام ڈیزائن (argument from design) خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے ایک سائنٹفک استدلال ہے۔ مگر ڈارونزم نے اس استدلال کو ڈیسٹرائے کر دیا ہے۔ اس کے جواب میں پروفیسر لن (Arnold Henry Moore 1888-1974, Lunn) نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام تھا: The Revolt Against Reason۔ اس کتاب میں دکھایا گیا تھا کہ ڈارونزم خود ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے۔ پھر وہ آرگومنٹ فرام ڈیزائن کے ثابت شدہ نظریے کو کیسے ڈیسٹرائے کر سکتا ہے۔ علمِ انسانی میں اس تبدیلی کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ اب مذہب اور سائنس کی دوری ختم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader