اعلائے کلمۃ الاسلام
Urdu book, p. 386
By Maulana Wahiduddin Khan
صرف وہ طریقہ ہے جس سے وہ ہمارے پیمائشی آلات کو متاثر کرتی ہے ۔ اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات کس قدر اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسے وجود (entity) کو طبیعیات میں تسلیم کر لیا گیا جس کے متعلق ہم اس کے ریاضیاتی ڈھانچے کے سوا اور کچھ نہیں جانتے۔ اس کے بعد اس نہج پر اس قسم کے اور بھی وجود تسلیم کئے گئے ۔ اور یہ مان لیا گیا کہ یہ لامعلوم ہستیاں بھی سائنسی نظریات کے بنانے میں وہی حصہ ادا کرتی ہیں جو قدیم معلوم مادہ ادا کرتا تھا۔ یہ حقیقت قرار پا گیا کہ جہاں تک علم طبیعیات کا تعلق ہے، ہم کسی چیز کے اصلی وجود کو نہیں جان سکتے۔ بلکہ صرف اس کے ریاضیاتی ڈھانچے (mathematical structure) کو جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔ اب اعلیٰ ترین سطح پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہمارا یہ خیال کہ ہم اشیاء کو ان کی آخری صورت میں دیکھ سکتے ہیں، محض فریب تھا۔ نہ صرف یہ کہ ہم نے دیکھا نہیں ہے بلکہ ہم اسے دیکھ بھی نہیں سکتے۔ پروفیسر ایڈنگٹن (Eddington) کے نزدیک ریاضیاتی ڈھانچہ کا علم ہی وہ واحد علم ہے جو طبیعیاتی سائنس ہمیں دے سکتی ہے۔ "جمالیاتی، اخلاقی اور روحانی پہلوؤں سے قطع نظر، کمیت مادہ، جوہر، وسعت اور مدت وغیرہ، جو خالص طبیعیات کے دائرے کی چیزیں سمجھی جاتی ہیں، ان کی کیفیت کو جاننا بھی ہمارے لیے ویسا ہی مشکل ہو گیا ہے جیسے غیر مادی چیزوں کی حقیقت کو جاننا۔ موجودہ طبیعیات اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں سے براہِ راست واقف ہو سکے۔ ان کی حقیقت ادراک سے باہر ہے۔ ہم ذہنی خاکوں کی مدد سے اندازہ کرتے ہیں ۔ مگر ذہن کا کوئی عکس ایک ایسی چیز کی بعینہ نقل نہیں ہو سکتا جو خود ذہن کے اندر موجود نہ ہو۔ اس طرح اپنے حقیقی طریق مطالعہ کے اعتبار سے طبیعیات ان خارج از ادراک خصوصیتوں کا مطالعہ نہیں کرتی بلکہ وہ صرف مطالعہ برآلہ (pointer-reading) ہے جو ہمارے علم میں آتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ یہ مطالعہ عمل کائنات کی بعض خصوصیات کو منعکس کرتا ہے، مگر ہماری اصل معلومات آلاتی مطالعہ سے متعلق ہیں نہ کہ وہ خصوصیات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader