اعلائے کلمۃ الاسلام
Urdu book, p. 387
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بارے میں ہیں۔ آڈاتی مطالعہ کو اشیاء کی حقیقی خصوصیات سے وہی نسبت ہے جو ٹیلی فون نمبر کو اس شخص سے جس کا وہ فون نمبر ہے۔" The Domain of Physical Science - Essay in Science, Religion and Reality. یہ واقعہ کہ سائنس صرف ڈھانچہ کی معلومات تک محدود ہے، بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت ابھی پورے طور پر معلوم شدہ نہیں ہے۔ اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے احساسات یا خدا سے اتصال کا عارفانہ تجربہ اپنا کوئی خارجی جواب (objective counterpart) نہیں رکھتا۔ یہ قطعی ممکن ہے کہ ایسا کوئی جواب خارج میں موجود ہو۔ ہمارے مذہبی اور جمالیاتی احساسات اب محض مظاہر فریب (illusory phenomenon) نہیں کہے جاسکتے جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا۔ نئی سائنسی دنیا میں مذہبی عارف بھی ایک حقیقت کے طور پر رہ سکتا ہے۔ The Limitations of Science, pp. 138-42 سائنٹفک فلاسفہ نے اس قسم کی تشریحات شروع کردی ہیں۔ مارٹن وائٹ (Morton White) کے الفاظ میں ۔ بیسویں صدی میں فلسفیانہ ذہن رکھنے والے سائنس دانوں نے ایک نئی جنگ (Crusade) کا آغاز کر دیا ہے۔ جس میں وائٹ ہیڈ، ایڈنگٹن اور جینز کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔" ان علماء کا فکر صریح طور پر کائنات کی مادی تعبیر کی نفی کرتا ہے۔ مگر ان کی اصل خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے خود جدید طبیعیات اور ریاضیات کے نتائج کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں وہی الفاظ صحیح ہیں جو مارٹن وائٹ نے وائٹ ہیڈ کے متعلق لکھتے ہیں کہ وہ ایک بلند ہمت مفکر ہے جس نے مادہ پرستی کے شیروں کو عین ان کے بھٹ میں للکارا ہے۔ He is a heroic thinker who tries to beard the lions of intellectualism, materialism, and positivism in their own bristling den. (The Age of Analysis, 1970, pp. 84)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader