اعلائے کلمۃ الاسلام
Urdu book, p. 389
By Maulana Wahiduddin Khan
آتا ہے، وہ مکمل طور پر ریاضیاتی ڈھانچہ ہے۔ یہاں میں اس کا ایک اقتباس نقل کروں گا: ”یہ کہنا صحیح ہوگا کہ علم کا دریا پچھلے چند سالوں میں ایک نئے رخ پر مڑا ہے۔ تیس سال پہلے ہم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم ایک ایسی حقیقت کے سامنے ہیں جو اپنی نوعیت میں مشینی (mechanical) قسم کی ہے۔ ایسا نظر آتا تھا کہ کائنات ایٹموں کے ایک ایسے بے ترتیب انبار پر مشتمل ہے جو اتفاقی طور پر اکٹھا ہو گئے ہیں اور جن کا کام یہ ہے کہ بے مقصد اور اندھی طاقتوں کے عمل کے تحت، جو کوئی شعور نہیں رکھتیں، کچھ زمانے کے لیے بے معنی رقص کریں جس کے ختم ہونے پر محض ایک مردہ کائنات باقی رہ جائے۔ اس خالص میکانکی دنیا میں، مذکورہ بالا اندھی طاقتوں کے عمل کے دوران میں، زندگی محض اتفاق سے وجود میں آگئی۔ کائنات کا ایک بہت ہی چھوٹا گوشہ یا امکان کے طور پر اس طرح کے کئی گوشے کچھ عرصے کے لیے اتفاقی طور پر ذی شعور ہو گئے ہیں اور یہ بھی ایک بے روح دنیا کو چھوڑ کر بالآخر ایک روز ختم ہو جائیں گے۔ آج ایسے قوی دلائل موجود ہیں جو طبیعی سائنس کو یہ ماننے پر مجبور کرتے ہیں کہ علم کا دریا ایک غیر مشینی حقیقت (non-mechanical reality) کی طرف چلا جا رہا ہے۔ کائنات ایک بہت بڑی مشین کے بجائے ایک بہت بڑے خیال (great thought) سے زیادہ مشابہ معلوم ہوتی ہے۔ ذہن (mind) اتفاقاً محض اجنبی کی حیثیت سے اس مادی دنیا میں وارد نہیں ہو گیا ہے۔ اب ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ رہے ہیں کہ ذہن کا عالم مادی کے خالق اور حکمراں کی حیثیت سے استقبال کریں۔ یہ ذہن بلاشبہ ہمارے شخصی ذہن کی طرح نہیں ہے۔ بلکہ ایسا ذہن ہے جس نے مادی ایٹم سے انسانی دماغ کی تخلیق کی۔ اور یہ سب کچھ ایک اسکیم کی شکل میں پہلے سے اس کے ذہن میں موجود تھا۔ جدید علم ہم کو مجبور کرتا ہے کہ ہم دنیا کے بارے میں اپنے خیالات پر نظر ثانی کریں جو ہم نے جلدی میں قائم کر لیے تھے۔ ہم نے دریافت کر لیا ہے کہ کائنات ایک منصوبہ ساز یا حکرماں (designing or controlling power) کی شہادت دے رہی ہے جو ہمارے شخصی ذہن سے بہت کچھ مشابہ ہے۔ جذبات و

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader