Urdu book · علما اور دینی مدارس

اعلائے کلمۃ الاسلام

Urdu book, p. 390

By Maulana Wahiduddin Khan

احساسات کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس طرزِ پر سوچنے کے اعتبار سے جس کو ہم ریاضیاتی ذہن (Mathematical Mind) کے الفاظ میں ادا کر سکتے ہیں۔ The Mysterious Universe, pp. 136-38 بیسویں صدی کے نصف اؤل میں مذکورہ کام جو ہو رہا تھا، اس کو ایک لفظ میں، spiritualization of science کہا جا سکتا ہے۔ یہ کام اس وقت اعلیٰ ترین سائنسی دماغ کر رہے تھے۔ مثلاً وائٹ ہیڈ، سر آرتھر ایڈنگٹن اور سر جیمز جینز، وغیرہ۔ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس قسم کے اعلیٰ دماغ دوبارہ اس علمی تحریک کو نہ مل سکے، جس کو ہم نے اسپر پچولا ئزیشن آف سائنس کا نام دیا ہے۔ اس کا سبب غالباً عالمی سماج میں وہ نیا ظاہر ہ تھا جس کو کنزیومرزم کہا جاتا ہے۔ کنزیومرزم کی غیر معمولی مقبولیت نے صرف ان چیزوں کو اہمیت دے دی جو تجارتی اہمیت رکھتی (marketable) تھیں۔ مذکورہ عمل تھیوریٹیکل سائنس سے تعلق رکھتا تھا۔ اور تھیوریٹیکل سائنس میں کمرشیل ویلیوز زیادہ نہیں ہوتی۔ اس لیے تمام اعلیٰ دماغ ٹیکنیکل سائنس کے شعبوں میں کام کرنے لگے۔ کیوں کے تمام بڑے بڑے اقتصادی فائدے سائنس کے ٹیکنکل شعبوں سے متعلق ہو گئے تھے۔ اس طرح تھیوریٹیکل سائنس میں ریسرچ کا کام اپنی آخری تکمیل تک پہونچنے سے پہلے رُک گیا۔ اب ضرورت تھی کے بڑے بڑے مذہبی دماغ اس کام میں لگیں اور اس کو اس کی آخری تکمیل تک پہونچائیں۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ مذہبی حلقے میں اعلیٰ دماغ موجود تھے۔ مگر وہ اس اصل کام کو چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ گئے۔ جدید تہذیب کے ظہور کے بعد اہلِ مذاہب کے لیے یہ نیا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا کہ لوگ جدید تعلیم اور جدید افکار سے متاثر ہو کر مذہب کے روایتی عقیدے پر شک کرنے لگے تھے۔ چنانچہ تمام بڑے بڑے مذہبی دماغ اس کے دفاع میں لگ گئے۔ ہندوؤں میں اس زمانے میں بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے مثلاً ڈاکٹر رادھا کرشنن (وفات 1975)، وغیرہ۔ مگر یہ لوگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page