Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

اسکول کھولا گیا، اس کے تمام استاد غیر مسلم تھے۔ یہ اسکول مدینہ میں مشرک قیدیوں کے ذریعہ کھولا گیا ۔ بعض لوگ صفہ کو پہلا اسلامی مدرسہ کہتے ہیں۔ مگر صفہ تربیت گاہ تھا، نہ کہ تعلیم گاہ۔ اسلام کی پہلی تعلیم گاہ یقیناً وہ ہے جو غزوہ بدر کے قیدیوں کے ذریعہ مدینہ میں قائم کی گئی اور اس کے ٹیچر سب کے سب مشرک اور غیر مسلم تھے۔ حتیٰ کہ اس تعلیمی نظام کی بنا پر مدینہ میں مسائل بھی پیدا ہوئے۔ مثلاً مسند احمد بن حنبل کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کا فدیہ یہ مقرر کیا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھادیں۔ اس کے بعد ایک روز ایک لڑکا روتا ہوا اپنی ماں کے پاس آیا۔ ماں نے پوچھا تمہارا حال کیا ہے۔ اس نے کہا کہ میرے معلم نے مجھ کو مارا ہے: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ، قَالَ: فَجَاءَ غُلَامٌ يَوْمًا يَبْكِي إِلَى أُمِّهِ فَقَالَتْ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي (مسند احمد، حدیث نمبر 2216)۔ یہ قیدی سب کے سب اسلام کے دشمن تھے۔ ان کو چھوڑنے میں یہ اندیشہ تھا کہ وہ دوبارہ اسلام کے خلاف مسئلہ بنیں گے۔ اس کے باوجود انھیں تعلیم کی قیمت پر چھوڑ دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ ہر اندیشے کو نظر انداز کر کے اسے حاصل کرنا چاہیے۔ (الرسالہ، مارچ 1990) مدرسہ کے طلبہ کے نام حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس میں دیگر باتوں کے علاوہ مسلم عاقل کی صفات بھی بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ اس کو اپنے زمانہ سے باخبر ہونا چاہیے: اَنْ يَكُوْنَ بَصِيْرًا بِزَمَانِهِ (صحیح ابن حبان،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page