Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک نوجوان عالم دین کا تجربہ

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک نوجوان عالم دین کا تجربہ ایک نوجوان عالم دین آج کل ہمارے ساتھ تحریری کام میں کچھ مدد کر رہے ہیں۔ ان کو میں دو جگہ غیر مسلموں کے اجتماع میں لے گیا۔ وہ دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم ندوہ دونوں جگہ پڑھے ہوئے ہیں۔ مگر اب تک انہیں غیر مسلموں کے کسی اجتماع میں جانے کا موقع نہیں ملا تھا۔ دوسرے اجتماع سے واپسی کے بعد میں نے ان کا تاثر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ میرے لیے عقلی افتتاح کا تجربہ تھا۔ انہوں نے اس کی تفصیل ان الفاظ میں بیان کی: مجھے پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ ہم اب تک اندھیرے میں تھے اور ایک محدود دائرے میں گردش کر رہے تھے۔ ہم نے یہ سمجھا ہی نہیں تھا کہ ایک اور وسیع میدان ہماری نظروں سے اوجھل ہے، جس میں زیادہ بہتر طور پر دین کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ غیر مسلم اقوام بھی ہمارے معاشرے کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ان کو الگ کرنے کی صورت میں ہم خود الگ ہو کر رہ جائیں گے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ باہمی میل جول بڑھا کر ہم خدا کے پیغام کو عام کریں۔ اس کو اپنی محدود دنیا سے نکال کر غیر محدود فضا میں لے جائیں۔ یہ ہمارا فریضہ تھا۔ لیکن ہم اب تک اس سے دور تھے۔ (ڈائری ، 26 فروری 1997) تعارف اسلام دہلی کی جامع مسجد کے پاس تھیاسافیکل سوسائٹی کی ایک لائبریری ہے۔ مجھے مسز اینی بسنٹ (1933-1847) کی ایک کتاب کی تلاش تھی۔ اس کتاب کو لینے کے لیے میں مذکورہ لائبریری میں 24 جون 1979 کو گیا۔ یہ اتوار کا دن تھا۔ حسب معمول اس دن ان کا ہفتہ وار اجتماع تھا۔ کتاب حاصل کرنے کے بعد دن کو 10 بجے میں ان کے اجتماع میں شریک ہوگیا۔ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page