Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک نوجوان عالم دین کا تجربہ

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

پڑھے لکھے لوگوں کا اجتماع تھا۔ نیا چہرہ دیکھ کر انہوں نے مجھ سے فرمائش کی ”آپ بھی اپنے چار رکھیں“۔ میں نے کہا کہ میں قرآن کا طالب علم ہوں اگر آپ پسند کریں تو میں یہ کر سکتا ہوں کہ یہ بتاؤں کہ قرآن کی تعلیم کیا ہے، انہوں نے کہا۔ ضرور آپ یہی بتائیے۔ ہم آپ سے اسی موضوع پر سننا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد میں نے تقریباً آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ اس تقریر میں سادہ انداز میں توحید، آخرت اور جنت و جہنم کی وضاحت کی۔ میں نے بتایا کہ قرآن کے مطابق زندگی کا اصل مسئلہ موجودہ دنیا کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ موت کے بعد آنے والی دنیا کا مسئلہ ہے۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں ہم کس طرح زندگی گزاریں کہ ہماری اگلی زندگی کامیاب رہے۔ تمام لوگ بہت غور سے میری تقریر سنتے رہے۔ تقریر کے بعد سوالات بھی ہوئے جن کا میں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جواب دیا۔ تقریر ختم ہونے کے بعد مجمع سے ایک صاحب اٹھ کر میرے پاس آئے اور میرا پتہ معلوم کیا۔ میں نے اپنا پورا پتہ بتا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پٹیل نگر (نئی دہلی) میں تھیاسوفیکل سوسائٹی کا لاج ہے۔ وہاں زیادہ بڑے پیمانہ پر ہمارا پروگرام ہوتا ہے۔ ہم وہاں پر آپ کی تقریر رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم ایک ساتھ ایک مہینہ (چار ہفتہ وار اجتماعات) کا پروگرام بنا کر چھپوا لیتے ہیں اور اس کو تمام ممبروں تک بھیج دیتے ہیں۔ اب 15 جولائی تک ہمارا پروگرام سٹ ہو چکا ہے۔ اس کے بعد کسی تاریخ کو ہم آپ کو زحمت دینا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد میری دوسری تقریر 15 جولائی 1979 کو ہوئی ۔ اس کا عنوان تھا، قرآن کا پیغام۔ ملک کے اکثر حصوں میں غیر مسلم حضرات کے اس طرح کے اجتماعات برابر ہوتے رہتے ہیں۔ وہ لوگ اس کو پسند کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی وہاں آئیں اور سنجیدہ انداز میں اپنی بات پیش کریں۔ اسلام کے تعارف کے سلسلہ میں ہمیں جو کچھ کرنا ہے۔ اس کے سلسلہ میں ایک کام یہ بھی ہے کہ اس طرح کے اجتماعات میں پہنچیں اور ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ (الرسالہ، جنوری 1986)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page