Urdu book · علما اور دینی مدارس

شعوری ایمان

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

ملنے کے لیے گئے۔ وہاں مجلس میں ایک اور صاحب موجود تھے جوان طلبہ کے آزادانہ خیالات سے واقف تھے۔ انہوں نے اصغر گونڈوی سے کہا: ’’حضرت یہ لڑکے انگریزی پڑھ کر دہر یے ہو گئے ہیں۔‘‘ اصغر گونڈوی یہ سن کر فوراً سنجیدہ ہو گئے۔ ان کو دہریہ نہ کہو۔‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’یہ ابھی ’’لا الہ‘‘ کی منزل میں ہیں۔ اس کے بعد جب وہ ’’الا اللہ‘‘ کی منزل میں پہنچیں گے تو وہ تم سے اچھے مسلمان ہوں گے۔‘‘ اصغر گونڈوی کے اس جملہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ایک واقعہ کے تاریک پہلو کو لینے کے بجائے اس کے روشن پہلو کو لیا۔ خدا اور مذہب کے بارے میں ایک آدمی کی تشکیلیکی خیالات کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ باقاعدہ طور پر خدا اور مذہب کا منکر ہو۔ مگر اسی کے ساتھ یہاں دوسرا امکان بھی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی تلاش کے مرحلہ میں ہو۔ اصغر گونڈوی نے نوجوانوں کی ’’دہریت‘‘ کو انکار کے معنی میں لینے کے بجائے اس کو تلاش کے معنی میں لیا۔ اس کے اندر ایک اور حکمت بھی ہے۔ وہ یہ کہ ’’تلاش‘‘ کے مرحلہ سے گزر کر جو شخص ’’یافت‘‘ کے مرحلہ تک پہنچتا ہے اس کا ایمان بے حد پختہ ہوتا ہے۔ جو آدمی شعوری طور پر ’’نہیں‘‘ کا انکار کرے اور شعوری طور پر ’’ہے‘‘ کو اختیار کرے تو اس کے ایمان میں جوش اور یقین اور زندگی ہوتی ہے۔ اس کا ایمان ان لوگوں سے بہت بلند ہوتا ہے جنہوں نے ’’نہیں‘‘ کا تجربہ نہیں کیا۔ جن کو نسلی اور روایتی طور پر ایک عقیدہ مل گیا اور وہ اس سے مانوس ہو کر اس سے وابستہ ہوگئے۔ روایتی ایمان ایک آبائی تقلید ہوتا ہے۔ اور شعوری ایمان ایک ذاتی دریافت۔ اول الذکر ایمان آدمی کی زندگی کا بس ایک ضمیر ہوتا ہے۔ جبکہ ثانی الذکر ایمان اس کے وجود میں خون اور حرارت بن کر داخل ہو جاتا ہے۔ ایک اگر بے روح ایمان ہے تو دوسرا حقیقی معنوں میں زندہ ایمان۔ (الرسالہ، مئی 1983)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page