علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ یہ حدیث مذہب کی دنیا میں ایک عظیم انقلاب کو بتا رہی ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی معاملات دو قسم کے ہیں۔ ایک معاملات کا اخلاقی پہلو۔ دوسرا وہ جسے معاملات کو ٹیکنیکل پہلو کہہ سکتے ہیں۔ مذکورہ حدیث نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ اخلاقی پہلو کو خدائی ہدایت کا پابند بتاتے ہوئے ٹیکنیکل پہلو کے بارے میں کہہ دیا کہ اس کو تحقیق اور تجربہ کی بنیاد پر قائم کرو۔ گویا دینی مطالعہ کو سائنسی ریسرچ سے جدا کر دیا گیا۔ دوسرے مذاہب اپنی موجودہ شکل میں ان دونوں پہلوؤں کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ انہوں نے ٹیکنیکل پہلو کو بھی مذہبی عقائد کے تابع کر رکھا ہے۔ مثلاً عیسائی مذہب میں سورج اور زمین کی گردش کے معاملہ کو مذہبی عقیدہ کی حیثیت دے دی گئی۔ ٹیکنیکل پہلو کو اس طرح مذہبی عقیدہ کے ماتحت کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ درخت کے پھل کی پیداوار کم ملے گی۔ انسان قیمتی گوشت کے فائدے سے محروم رہے گا۔ کائنات کے حقائق انسان کے او پر ظاہر نہیں ہوں گے۔ وغیرہ۔ مذکورہ طریقہ کی بنا پر دوسرے مروجۂ مذاہب سائنسی تحقیق اور ترقی کا دروازہ بند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، اسلام نے سائنسی ترقی کا دروازہ آخری حد تک کھول دیا ہے۔ (ڈائری، 9 مئی 1989) شعوری ایمان قاضی مجتبیٰ حسن زنجانی (پیدائش (1915) حکومت ہند میں جوائنٹ چیف کنٹرولر امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ تھے۔ 14 فروری 1983 کی ملاقات میں انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ بتایا۔ 1935 میں جب کہ وہ الہ آباد میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اصغر گونڈوی (1936-1884) بھی وہاں مقیم تھے۔ اصغر صاحب اس وقت ہندوستانی اکیڈمی کے سہ ماہی رسالہ ”ہندوستانی“ کے مدیر تھے۔ جناب زنجانی صاحب اور ان کے کچھ نوجوان ساتھی ایک روز اصغر گونڈوی سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader