علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ تھا۔ اس وقت مؤثر کام کرنے کے لیے ضروری تھا کہ زمانی حالات کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے، یہ سمجھا جائے کہ جدید تقاضے کیا ہیں، اور پھر انہی کے مطابق اسلامی کام کی منصوبہ بندی کی جائے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ لوگوں نے پرجوش تقریر و تحریر کو کافی سمجھ لیا۔ یہ بلاشبہ ایک غلط اندازہ تھا۔ اس غلطی کا نتیجہ تھا کہ موجودہ زمانے میں بے شمار قربانیوں کے باوجود مطلوب نشانہ حاصل نہ ہو سکا۔ نقصان در نقصان مولانا اختر احسن اصلاحی (وفات 1957) مدرسہ الاصلاح کے صدر مدرس تھے۔ ایک بار انہوں نے ایک مسلمان عالم کا نام لے کر کہا کہ وہ عربی زبان پر نہایت عمدہ قدرت رکھتے ہیں۔ اور فلاں عرب سفارت خانے میں کام کرتے ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میں ان کو ادب عربی کے استاذ کی حیثیت سے اپنے مدرسہ میں بلاؤں۔ مگر میں ان کو سفارت خانے والی تنخواہ نہیں دے سکتا۔ اس لیے میں اپنے مدرسہ کے لیے ان کو حاصل بھی نہیں کر سکتا۔ یہ بات چالیس سال پہلے کی ہے۔ اب یہ صورت حال چالیس گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ آج ہماری تمام بہترین صلاحیتوں کو سیکولر ادارے استعمال (avail) کر رہے ہیں، مسلم اداروں کو ان کا کوئی حصہ حاصل نہیں۔ تیسری دنیا (Third world) کی اصل کمزوری یہ ہے کہ اس میں سب تیسرے درجہ کے لوگ بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں جتنے اعلیٰ درجہ کے افراد تھے، اور جو اونچی تعلیم پائے ہوئے تھے، وہ ملینوں (Millions) کی تعداد میں یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں جا کر آباد ہو گئے ہیں۔ کیوں کہ وہاں ان کو زیادہ پیسہ اور زیادہ بہتر مواقع حاصل ہیں۔ یہی تمام مسلم قوموں کا حال ہے۔ اور یہی غیر مسلم اقوام کا حال بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader