نقصان در نقصان
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان اور پاکستان کے مسلم اداروں کو دیکھیے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ان اداروں کی کارکردگی اچھی نہیں۔ ان اداروں میں کام کا وہ معیار نہیں رہا جو پہلے وہاں پایا جاتا تھا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اعلیٰ ذہن تقریباً سب کے سب بیرونی ملکوں میں چلے گئے۔ اب صرف کم تر صلاحیت کے لوگ باقی رہ گئے ہیں، جو مسلم اداروں کی ذمہ داریاں سنبھالیں ۔ اور جن اداروں میں کمتر صلاحیت کے لوگ بھرے ہوئے ہوں، ان کی کارکردگی کا معیار کمتر کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ اعلیٰ کام ہمیشہ اعلیٰ آدمی کرتے ہیں۔ جب اعلیٰ آدمی ہی نہ رہیں تو اعلیٰ کام کیسے ہو سکتا ہے۔ اس صورت حال کا سب سے زیادہ عبرت ناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے اکابر سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت تک مغربی اقوام کو سب سے بڑی برائی بتاتے رہے۔ انہوں نے ملت کے تمام بہترین وسائل اس محاذ پر لگا دیے کہ ان بیرونی اقوام کی غلامی سے ملت کو رہائی دے سکیں مگر جب ناقابل بیان قربانیوں کے بعد بیرونی قومیں ہمارے ملکوں سے واپس چلی گئیں تو اب یہ حال ہے کہ ہمارے تمام بہترین افراد اپنا وطن چھوڑ چھوڑ کر خود مغربی ملکوں میں پہنچ گئے اور اب وہ اُنھی قوموں کے زیرِ سایہ زندگی گزارنے کو فخر سمجھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر انسان ترقی اور کامیابی چاہتا ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو انسان کے اندر سے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی کے رہنماؤں نے اگر ایسا کیا ہوتا کہ جن بے شمار وسائل کو وہ مغربی قوموں کے خلاف لڑائی میں استعمال کرتے رہے ان کو وہ خود اپنے ملک کی علمی اور تمدنی ترقی میں استعمال کرتے تو دردناک مہاجرت کا یہ واقعہ، کم ازکم اتنے بڑے پیمانے پر ہرگز پیش نہ آتا۔ ایسی صورت میں حوصلہ مند افراد خود اپنے ملک میں وہ مواقع پا لیتے جن کو استعمال کر کے وہ اعلیٰ ترقی حاصل کر سکیں۔ تیسری دنیا میں آزادی عمل کے مواقع نہ ہونا، اعلیٰ معیار کے تعلیمی اداروں کا فقدان، اپنے حوصلوں کے مطابق ترقی کے راستہ میں بڑھتے رہنے والے حالات کی غیر موجودگی، یہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader