Urdu book · علما اور دینی مدارس

اختلاف کو نظر انداز کیجیے

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

کارنامہ نہیں ادا کر رہے ہیں۔ تقریباً ہر عالم اپنی انتظامیہ اور متولیان مساجد کے خلاف شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے، یہاں تک کہ پوری زندگی شکایت کی نذر ہو جاتی ہے۔ آج علما صرف جلسوں یا کانفرنسوں میں نظر آتے ہیں، مگر ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو کوئی علمی تحقیق یا علمی یادگار نہیں دے پاتے۔ اس کے بغیر ہی وہ دنیا سے شاکی ہو کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ علما اپنی اس سوچ کی اصلاح کریں، وہ اپنی لاعلمی کو جانیں ۔ وہ ادارے کی انتظامیہ کی نیتوں پر حملے ترک کریں، اس کے بجائے ان کو چاہیے کہ جو مواقع ان کو حاصل ہیں، ان پر وہ فوکس کریں، اور امت مسلمہ کو فائدہ پہنچائیں۔ (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو) مکتوب نگار نے جو بات لکھی ہے، وہ بلاشبہ درست ہے۔ لیکن راقم الحروف کے نزدیک اس کا سبب ماضی کی تاریخ تک جاتا ہے۔ فقہائے متقدمین اس معاملے میں میرے نزدیک ٹرینڈ سیٹر (trend setter) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فقہائے متقدمین کے زمانے میں مسائل میں اختلافات پیدا ہوئے۔ اس وقت فقہائے متقدمین نے مسائل پر لامتناہی بحثیں چھیڑ دیں۔ یہ بلاشبہ ایک غلو تھا، جس کے نتیجے میں غیر ضروری طور پر فقہی مسلک بنے، اور بڑھتے بڑھتے ان مسائل کی بنیاد پر مختلف قسم کے فقہی گروپ بن گئے۔ فقہ صرف ایک ہے، اور وہ وہی ہے، جو صحابہ کرام کے زمانے میں عملاً موجود تھی۔ بعد کے زمانے میں فقہی بنیاد پر مختلف گروہ بن گئے، مثلاً حنفی فقہ، مالکی فقہ، شافعی فقہ، جنبلی فقہ، جعفری فقہ، وغیرہ۔ یہ وہی چیز تھی، جس کو قرآن میں تفرق فی الدین (الشوریٰ، 14-42: 13) کہا گیا ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشترک امور میں تو حد کا طریقہ اختیار کیا جائے، اور اختلافی امور میں توسع کا طریقہ۔ علمائے فقہ کو اس معاملے میں توسع کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا، جس کی طرف ابن عبد البر نے اپنی کتاب جامع بیان العلم وفضلہ (جلد 1، صفحہ 345) میں اشارہ کیا ہے۔ اس اختلافی مسائل میں غلو کے نتیجے میں ایک مبتدعانہ اصول پیدا ہوا، جس کو ترجیح کہتے ہیں۔ ترجیح کا طریقہ،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page