اختلاف کو نظر انداز کیجیے
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
اختلاف کو نظر انداز کیجیے جنوبی ہند سے ایک عالم دین کا مکتوب موصول ہوا ہے، اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: تمل ناڈو اور دوسرے علاقوں میں علمائے کرام مختلف اداروں، مثلاً مدرسہ یا مسجد، وغیرہ، سے منسلک ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جب ان کو ادارے کی انتظامیہ (management) سے کوئی شکایت ہو جاتی ہے، اس وقت وہ منفی رویہ اپنا کر اس ادارے سے نکل کر کسی دوسرے ادارے میں چلے جاتے ہیں، یا ایک نیا ادارہ قائم کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ پریشان بھی رہتے ہیں، اور ان کا علمی سفر بھی رک جاتا ہے۔ کیوں کہ ادارہ کی ذمہ داریاں سنبھالنے میں ان کا وقت گذر جاتا ہے۔ ان واقعات کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ موجودہ زمانے کے علما کو صرف خروج علی الحاکم کے مسائل معلوم ہیں، خروج علی مینجمنٹ کے مسائل ان کو معلوم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خروج ہر جگہ غیر مطلوب ہے، اس کا انھیں علم نہیں۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ علما اپنی علمی ذمہ داریاں ادا کریں، اور ادارے کی انتظامیہ، وغیرہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو معاملہ درست طریقے سے چلے گا۔ اس معاملے میں علما کے لیے یہ حدیث رسول ایک رہنما گائیڈ کی حیثیت رکھتی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ یعنی، ان کا حق ان کو دو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔ اگر اس حدیث کے مطابق عمل نہ کیا جائے، تو باعتبار نتیجہ صرف فساد برپا ہوگا، شکایت کا ازالہ نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں محدثین ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ انہوں نے اپنی علمی اور دینی ذمہ داریاں بھر پور طریقے سے ادا کی، لیکن وقت کے حکام سے جو شکایت تھی، اس کو نظر انداز کیا۔ جس کی وجہ سے آج ہم ان کے علمی ذخیرے سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ آج علما کرام دلوں میں شکایت پالنے کی وجہ سے اپنے لیے مسائل میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں، مگر کوئی بڑا علمی ذخیرہ یا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader