علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
خروج کا معاملہ ہو۔ کسی کے لیے یہ تو جائز ہے کہ وہ کسی عذر کو لے کر خاموشی کے ساتھ ادارے سے الگ ہو جائے ۔ وہ الگ ہونے سے پہلے بھی اس معاملے میں خاموش رہے، اور ادارے سے الگ ہونے کے بعد بھی خاموش رہے۔ ادارے کے خلاف یا ادارے کے ذمے داران کے خلاف شکایتیں کرنا، اور منفی باتیں کر کے لوگوں کے اندر شکایتی ماحول پیدا کرنا، ہر گز جائز نہیں۔ (الرساله، فروری 2020) غلط معیارِ حق مولانا عبد السلام رحمانی ایک اہل حدیث عالم ہیں۔ آج کی ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ 1978 میں وہ فنی گئے ۔ ان کی کوششوں سے وہاں اہل حدیث کا ایک حلقہ بن گیا۔ وہ میلاد النبی اور چالیسواں جیسے رواجوں پر تنقید کرتے تھے۔ اس بنا پر ایک عالم ان سے غصہ ہو گئے جو اگر چہ دیوبندی تھے مگر وہاں کے حالات کی بنا پر انہوں نے مبتدعانہ رسومات کی سر پرستی اختیار کر لی تھی ۔ یہ دیوبندی عالم مولانا عبد السلام کے خلاف ہو گئے ۔ یہاں تک کہ گورنمنٹ میں شکایتیں کر کے انہوں نے ان کا امیگریشن کینسل کرایا۔ اب وہ واپس آ کر بستی کے ایک مدرسہ میں کام کرتے ہیں۔ کچھ دن پہلے مولانا عنایت اللہ سبحانی ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سعودی عرب کے مبعوث تھے اور وہاں کی تنخواہ پر جامعۃ الفلاح (بلریا گنج) میں کام کرتے تھے۔ وہ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی پر بعض معاملات میں تنقید کرتے تھے۔ چنانچہ جماعت اسلامی کے مقامی افراد ان پر غصہ ہو گئے۔ انہوں نے ان کے خلاف سعودی عرب کے متعلق محکمہ میں شکایتیں بھیجیں ، یہاں تک کہ وہاں سے ان کی تنخواہ بند کر دی گئی۔ اور ان کی مبعوث کی حیثیت ختم کردی گئی۔ اس طرح کو پا گنج کے مولانا ممتاز قاسمی نے بتایا کہ کو پا گنج میں وہ الرسالہ کی تائید کرتے تھے اور اس کی ایجنسی چلاتے تھے۔ اس کے ساتھ وہ وہاں گورنمنٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader