علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
کے پرائمری اسکول میں اردو ٹیچر تھے ۔ الرسالہ کی بعض تنقیدوں کی بنا پر جمعیۃ علماء ہند کے مقامی افراد مولانا ممتاز صاحب کے خلاف ہو گئے اور کوشش کر کے ان کی ملازمت ختم کرا دی ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اگر میں ہوتا تو مجھے چار ہزار روپیہ مہینہ مل رہا ہوگا۔ اب وہ بمبئی میں امامت کرتے ہیں ۔ اس طرح کے واقعات غالباً اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگوں نے اپنی شخصیتوں اور اپنی جماعتوں کو معیارِ حق سمجھ لیا ہے۔ اس بنا پر جب کوئی شخص ان کی شخصیت یا ان کی جماعت پر تنقید کرتا ہے تو وہ بلا دلیل یہ یقین کر لیتے ہیں کہ ناقد ضرور غلطی پر ہے۔ یہی چھوٹا یقین ان کو مذکورہ قسم کی تخریبی کارروائیوں پر آمادہ کرتا ہے۔ (ڈائری ، 10 دسمبر 1996) اسٹیج کا فتنہ موجودہ زمانے میں ایک نیا فتنہ پیدا ہوا ہے ، جس کو اسٹیج کا فتنہ کہا جا سکتا ہے۔ جس آدمی کے اندر شاندار شخصیت ہو ، جو اچھا بولنے کی صلاحیت رکھتا ہو ، جو لوگوں کو خوش کرنے کا فن جانتا ہو ، جو عوام پسند لہجے میں بول سکے ، اس کو فورا اسٹیج مل جاتا ہے۔ اسٹیج ملتے ہی آدمی کی انا (ego) پوسٹ (boost) ہونے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ واپس لوٹنا اس کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ اسٹیج ایکٹوزم کے بظاہر دوسرے بہت سے فائدے ہیں — عوامی مقبولیت ، ہر جگہ پذیرائی اور ہر قسم کے دنیوی ساز وسامان ، وغیرہ ۔ یہ چیزیں اس کے اندر مصنوعی شخصیت بنانے لگتی ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ اسی میں کنڈیشنڈ ہو جاتا ہے۔ جب یہ درجہ آ جائے تو اس کے اندر محاسبہ کا ذہن ختم ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں درست راستے پر ہوں۔ مجھے اپنے اندر کوئی تبدیلی لانے کی ضرورت نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader