Urdu book · علما اور دینی مدارس

تمهید

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

تمهید پہلی بار جب میں ایک بڑے مدرسہ میں گیا تو اس کو دیکھ کر اچانک میری زبان سے نکلا مدینة العلم (علم کا شہر)۔ ہر مدرسہ گویا علم کا ایک شہر ہے، اس واحد فرق کے ساتھ کہ ان میں سے کوئی بڑا شہر ہے اور کوئی چھوٹا شہر۔ دورِ اوّل میں جب مسلمان مختلف ملکوں میں پھیلے تو ہر جگہ انہوں نے اس قسم کے علمی شہر قائم کیے ۔ یہ تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ تھا۔ قدیم زمانے میں عمارت کے نام سے یا تو بڑے بڑے عبادت خانے (temples) بنائے جاتے تھے یا محل اور قلعے اور مقبرے۔ جدید معنوں میں تعلیم گاہیں بنانے کا کوئی رواج ہی قدیم زمانے میں نہ تھا۔ ایک مغربی محقق نے بجا طور پر لکھا ہے کہ صد فی صد تعلیم (hundred percent literacy) کا تصور پہلی بار مسلمانوں نے تاریخ میں پیدا کیا۔ مسلمانوں کے اندر یہ علمی مزاج کہاں سے آیا۔ یہ براہ راست قرآن کا نتیجہ تھا۔ قرآن کو کھلے ذہن کے ساتھ پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں سب سے زیادہ زور علم اور تعلیم پر دیا گیا ہے۔ بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن پہلی کتاب ہے جس نے علم کو محدود دائرہ سے نکالا اور تاریخ انسانی کو عمومی تعلیم (mass education) کے تصور سے آشنا کیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570ء میں عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پر پہلی وحی 610ء میں اتری جب کہ آپ غار حرا میں تھے ۔ وحی کا پہلا لفظ یہ تھا : اِقْرأ (پڑھو)۔ روایات میں آتا ہے کہ خدا کے فرشتہ جبریل نے آپ کے پاس آ کر کہا کہ اقرأ (پڑھو) آپ نے فرمایا کہ : ما أنا بِقارِئ (مجھے پڑھنا نہیں آتا)۔ جبریل نے دوبارہ کہا کہ اقرأ ۔ آپ نے فرمایا کہ ما أنا بِقارِئ۔ جبریل نے تیسری بار کہا کہ اقرأ۔ اس کے بعد آپ نے سورۃ العلق کے وہ کلمات اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page