Urdu book · علما اور دینی مدارس

تمهید

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

زبان سے دہرائے جو جبرئیل پہلی وحی کے طور پر آپ کے پاس لائے تھے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3)۔ ابتدائی وحی کے اس واقعے پر غور کیجیے۔ پیغمبر اسلام ثابت شدہ طور پر ایک اُمّی تھے۔ اس کے باوجود کیوں خدا کا فرشتہ بار بار کہہ رہا ہے کہ اقرأ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پڑھنا نہیں آتا تب بھی پڑھو۔ لکھنا نہیں جانتے تب بھی لکھو۔ اس اعتبار سے اسلامی کلچر گویا اقرأ کلچر کا دوسرا نام ہے۔ یہ ایک انتہائی انقلابی تعلیم تھی جو پیغمبر اسلام ﷺ کو اور بالواسطہ طور پر آپ کے پیروؤں کو آغاز رسالت میں اللہ کی طرف سے ملی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم آپ کے پیروؤں کی سرگرمی کا ایک مستقل حصہ بن گیا۔ پڑھنے اور لکھنے کا رواج اتنا بڑھا کہ وہ وقت آیا جب کہ مسلمان تمام قوموں کے معلم بن گئے۔ اہل اسلام جب عرب سے نکلے اور دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلے تو ہر جگہ انہوں نے پڑھنے اور پڑھانے کو اپنا خصوصی مشن بنا لیا۔ یہ لہر مکہ سے اُٹھی۔ پھر وہ مدینہ پہنچی۔ اس کے بعد وہ دمشق پہنچی۔ اس کے بعد بغداد اور قاہرہ اس کا مرکز بنا۔ اس کے بعد وہ قرطبہ اور غرناطہ میں داخل ہوئی۔ وہاں سے مزید پھیل کر وہ سارے عالم میں پہنچ گئی ۔ اس زمانے میں مسلم دنیا کے تمام شہر تعلیم و تعلّم کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ اہل اسلام کے اس مزاج کا نتیجہ تھا کہ جب ان کے قافلے برصغیر ہند میں داخل ہوئے تو یہاں بھی انہوں نے کثرت سے شخصی اور اجتماعی طور پر مدرسے اور تعلیم گاہیں قائم کیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ برصغیر ہند میں علم کی عمومی اشاعت بھی پہلی بار مسلمانوں کے ذریعہ ہوئی۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے اعتراف کیا ہے کہ عرب مسلمان انڈیا میں ایک شاندار کلچر (brilliant culture) لے کر آئے۔ (ڈسکوری آف انڈیا، 1944ء، صفحہ 231) انیسویں صدی عیسوی کے نصف اوّل میں جب برصغیر ہند میں انگریزوں کا غلبہ بڑھا تو اس کے ساتھ مسلم تعلیم گاہوں کا زوال شروع ہو گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انگریزوں کے خلاف ابتدائی سیاسی مزاحمت زیادہ تر علمائے اسلام کی قیادت میں ہوئی تھی۔ اس سے انگریزوں نے یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page