Urdu book · علما اور دینی مدارس

اصلاحِ نصاب، یا اصلاحِ ماحول

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتے ہیں، فنون نہیں پڑھائے جاتے ۔ یہ ایک صحیح بات تھی ۔ اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے مدارس میں اساتذہ اور طلبا کی سوچ تمام تر کچھ کتابوں اور ان کتابوں کے مصنفین پر مرتکز رہتی ہے۔ وہ انھیں چند کتابوں کو علم سمجھتے ہیں اور ان کے مصنفین کو علما کا درجہ دیتے ہیں۔ اس سے طلبا اور اساتذہ کے اندر بند ذہن پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ، اگر ہمارے مدارس میں فنون پڑھائے جائیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ موضوعات (subjects) زیر بحث آنے لگیں گے ۔ اس طرح غور و فکر کا دائرہ بہت زیادہ وسیع ہو جائے گا۔ اس طرح سوچ کا دائرہ چند مخصوص علما تک محدود نہیں رہے گا ، بلکہ کسی موضوع پر دوسرے اہل علم نے جو کچھ لکھا ہے، وہ بھی غور و بحث کے دائرے میں آ جائے گا۔ اس طرح لوگوں کے ذہن کھلیں گے ۔ لوگوں کا ذہنی ارتقا ہوگا۔ لوگوں کے اندر تقلید کے بجائے اجتہاد کی صلاحیت ترقی کرے گی ۔ ہر آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ چاہنے لگے گا کہ پچھلے لوگ جو کام کر چکے ہیں، میں اُن سے آگے جاؤں ، میں علمی ارتقا کی مزید منزلیں طے کروں۔ اس معاملے کی ایک مثال مولانا شبلی نعمانی کی زندگی میں پائی جاتی ہے۔ مولانا شبلی نعمانی نہ صرف یہ کہ ایک اچھے عالم تھے، بلکہ وہ ایک فعال آدمی تھے۔ وہ اظہارِ خیال کی آزادی کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ وہ جہاں بھی رہتے تھے، وہاں وہ لوگوں کے اندر یہ اسپرٹ پیدا کرتے تھے کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور کھلے ذہن کے تحت رائے قائم کریں اور دورِ جدید کے لحاظ سے اعلیٰ قابلیت پیدا کریں۔ اس سلسلے میں وہ انگریزی زبان سیکھنے پر بھی زور دیا کرتے تھے۔ اس کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ مولانا شبلی کے قیامِ ندوه (1913-1905) کے زمانے میں وہاں ایک زندہ علمی ماحول پیدا ہو گیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ مولانا شبلی نعمانی کے زمانے میں کئی اعلیٰ علمی شخصیات پیدا ہوئیں۔ مثلاً مولانا سید سلیمان ندوی ( وفات 1953) ، مولانا ابوالکلام آزاد (وفات 1958)، مولانا عبد الباری ندوی (وفات (1976)، مولانا عبد الماجد دریا آبادی (وفات 1977)، وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page