علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دنیا مسابقَت (competition) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ کوئی دوسرا شخص آپ کی قدر و قیمت کو پہچانے، اور وہ آپ کے ساتھ وہ سلوک کرے، جو بطور خود آپ اُس سے چاہتے ہیں۔ ایسا کبھی کسی انسان کے لیے نہیں ہوا۔ صلاحیتوں کو دینے والا اللہ رب العالمین ہے اور صلاحیتوں کا استعمال وہی شخص کرتا ہے جس کو صلاحیت دی گئی ہے۔ دوسرے آدمی سے زیادہ سے زیادہ جو امید کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ آپ کے کیے ہوئے کام کا اعتراف کرے۔ اس دنیا میں کوئی بھی شخص آپ کے حصے کا کام نہیں کر سکتا۔ موجودہ دنیا کے لیے یہ مقولہ بالکل درست ہے کرو یا مرو (do or die)۔ (الرسالہ، مارچ 2016) اصلاحِ نصاب، یا اصلاحِ ماحول مسلم رہنماؤں کے درمیان عرصے سے یہ تحریک چل رہی ہے کہ دینی مدارس کا نصاب (syllabus) بدلا جائے۔ یہ اصل مسئلے کا صرف کم تر اندازہ ہے۔ دینی مدارس میں بلا شبہ اصلاح کی ضرورت ہے، لیکن اس ضرورت کا تعلق اصلاً اصلاحِ نصاب سے نہیں ہے، بلکہ اصلاحِ ماحول سے ہے۔ موجودہ حالت میں خواہ مدارس کا نصاب بدل دیا جائے یا اس کو باقی رکھا جائے، دونوں صورتوں میں یقینی طور پر مطلوب نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ دینی مدارس کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہاں کا نصاب قابلِ تبدیلی ہے، دینی مدارس کا اصل مسئلہ وہاں کا قدامت پرستانہ ماحول ہے جس کو بدلنا ضروری ہے۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دینی مدارس میں مکمل طور پر جمود (stagnation) کی فضا قائم ہے۔ ان مدارس میں آزادانہ سوچ کو شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ مدارس کا یہی جامد ماحول مدارس کے جدید رول کی ادائینگی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک اس ماحول کو بدلا نہ جائے، مدارس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ دورِ جدید میں اپنا مطلوب رول ادا کر سکیں گے۔ مولانا شبلی نعمانی (وفات 1914) نے لکھا تھا کہ ہمارے مدارس میں متون پڑھائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader