Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

ذخیرہ ہے، اس سے بھی فائدہ اٹھائے۔ وہ اپنے اندر علمی گہرائی پیدا کرے ۔ وہ وسعتِ نظر کا حامل بنے۔ وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرے کہ مدرسے کی حدود سے باہر جو وسیع تر دنیا ہے، اس سے واقفیت حاصل کرے ۔ وہ کتابوں کے دائرے سے باہر انسانوں کے دائرے میں داخل ہو جائے ۔ یہ ضروری ہے کہ طالب علم اپنے موضوع کے متون سے واقف ہو۔ لیکن اس کے علاوہ ایک اور بڑی ضرورت ہے، وہ یہ کہ طالب علم اپنے زمانے کو جانے ۔ وہ زندگی کے وسیع تر دائرے سے باخبر ہو ۔ یہ چیز صرف خارجی مطالعہ سے حاصل ہو سکتی ہے۔ خارجی مطالعہ سے مراد صرف کتابی مطالعہ نہیں ہے، بلکہ دیگر اہل علم سے تبادلۂ خیال کے ذریعے اپنے ذہنی افق کو وسیع کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ یعنی دینی موضوعات کے علاوہ سیکولر موضوعات سے بقَدْر ضرورت آشنا ہونا۔ (الرسالہ، اگست 2016) ہر چیز ایک پروفیشن ایک مذہبی مسلمان نے ایک دکان کھولی۔ دکان کامیاب نہ ہوسکی۔ انہوں نے دکان بند کر دی اور ایک مدرسہ کھول لیا۔ مدرسہ کامیابی کے ساتھ چلنے لگا۔ جو فائدہ انہیں دکان سے حاصل نہیں ہوسکا تھا، وہ فائدہ ان کو مدرسے سے حاصل ہوگیا۔ ایک مسلمان نے ڈاکٹری شروع کی۔ ڈاکٹری میں وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اسلامی ادارہ بنایا اور اس ادارے کے اسٹیج سے انہوں نے اسلامی تقریروں کا پروگرام شروع کر دیا۔ اب وہ خوب کامیاب ہوگئے ۔ جلد ہی مسلمانوں کے درمیان ان کی دھوم مچ گئی۔ ایک مسلمان عرصے تک بے کار تھے ۔ اس کے بعد انہوں نے ایک مسجد کی بنیاد رکھ دی۔ ایک عرصے کے بعد مسجد کی شاندار عمارت کھڑی ہوگئی۔ مسجد کے ذریعے انہیں وہ سب کچھ حاصل ہوگیا جس کو وہ چاہتے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page