Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی کا نام دینی پروفیشن ہے، یعنی دین کو ایک پروفیشن کے طور پر اختیار کرنا۔ دین کے نام پر وہ فائدے حاصل کرنا جس کو لوگ مادی پیشے کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں یہ دینی پروفیشن بہت زیادہ عام ہو چکا ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی عنوان سے، دین کو ایک تجارت بنائے ہوئے ہے۔ ہر آدمی دین کے نام پر وہ تمام مادی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو دوسرے لوگ دنیا کے نام پر حاصل کرتے ہیں۔ ایک چیز ہے مشن (mission) اور دوسری چیز ہے پروفیشن (profession)۔ ایک شخص دین کو مشن کے طور پر اختیار کرے، یعنی خالص رضائے الہی کے لیے وہ دین کے کسی شعبے کی خدمت کرے، تو اس کا یہ عمل اس کے لیے آخرت میں جنت میں داخلے کا ذریعہ بنے گا۔ اس کے برعکس، جو لوگ دین کو بطور پروفیشن اختیار کریں، یعنی دین کے نام پر مادی فائدہ حاصل کریں، ان کو دنیا کی زندگی میں کچھ ظاہری فائدے حاصل ہو سکتے ہیں۔ لیکن آخرت میں وہ اس قرآنی آیت کے مصداق ٹھہریں گے: أُولٰئِكَ لا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ (3:77)- یعنی، آخرت کی اعلیٰ نعمتوں میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ ذہنی جمود کا نقصان ہندوستان کے دینی مدارس کے معلم یقیناً ایک اہم خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ ایسی نسل کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں، جس سے دینی روایت کا تسلسل قائم ہے۔ اسی طرح یہ مدارس آزاد ہندوستان میں اردو کو زندہ رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، وغیرہ۔ مگر ہندوستان کے دینی مدرسوں میں جو ماحول ہے وہ معلمین کے فکری مستویٰ کو بلند نہیں ہونے دیتا۔ مثال کے طور پر ان مدارس میں استاد اور شاگرد کا رشتہ صرف معلم اور معلم (متعلم) کا رشتہ ہے۔ یعنی ایک بتانے والا ہے اور دوسرا سننے والا۔ اس کی وجہ سے معلمین کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page