دو دنیاؤں کا فرق
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی تنقید خواہ کتنی ہی علمی اور مدلل کیوں نہیں۔ موجودہ اسلامی اداروں کی یہی کمزوری ہے جس نے ان کو آج کی دنیا میں بالکل بے قیمت بنا دیا ہے۔ کم از کم پچھلے پچاس سال کی بابت میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مدت میں غالباً کوئی ایک بھی ایسا انسان پیدا نہ ہو سکا جس کی آج کی دنیا میں کوئی اہمیت ہو۔ زندہ اور اعلیٰ انسان وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں کھلی تنقید اور آزادانہ اختلاف رائے کا ماحول ہو۔ ان اداروں میں یہ ماحول سرے سے موجود ہی نہیں، پھر وہاں اعلیٰ درجہ کے انسان کیوں پیدا ہو سکتے ہیں۔ آج اسلام کی نئی تاریخ بنانے کے لیے مجتہدانہ صلاحیت رکھنے والے اعلیٰ افراد درکار ہیں۔ مگر موجودہ اسلامی اداروں میں اکابر پرستی اور تقلیدِ شخصی کا ماحول اتنی گہرائی کے ساتھ چھایا ہوا ہے کہ ان اداروں سے مجتہدانہ اوصاف والی شخصیت کا پیدا ہونا ممکن نہیں۔ ان اداروں سے کسی اعلیٰ انسان کا ابھرنا ویسا ہی ایک عجوبہ ہوگا جیسا کسی قبرستان سے ایک زندہ انسان کا نکل آنا۔ (سفر نامہ غیر ملکی اسفار، جلد 2، روس کا سفر) مولانا محمد تقی امینی 5 مئی 1926 کوسیہہ بارہ بنکی میں پیدا ہوئے ۔ 21 جنوری 1991 کو علی گڑھ میں ان کی وفات ہوئی۔ مولانا مرحوم کے ساتھ میری زندگی کے کئی عبرت انگیز واقعات وابستہ ہیں۔ جون 1966 میں جب میں نے مجلس تحقیقات و نشریاتِ اسلام (لکھنو) کو چھوڑ دیا۔ اس وقت مولانا مرحوم مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ناظمِ دینیات تھے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھے بغیر بطورِ خود ہندوستان کے ان مسلم اداروں کے نام سفارشی خطوط لکھے جہاں لکھنے پڑھنے کا کام ہوتا تھا۔ مثلاً دار المصنفین، معارفِ اسلام، ندوة المصنفین ، وغیرہ۔ مدارسِ عربیہ سے جو جرائد نکلتے ہیں ان کو بھی خطوط لکھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان میں سے کسی ادارہ میں جگہ مل جائے تا کہ میں وہاں رہ کر لکھنے پڑھنے کا کام کر سکوں۔ مگر تمام کے تمام اداروں نے مجھ کو قبول کرنے سے معذرت ظاہر کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader