علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلہ میں انہوں نے تقریباً ایک درجن اداروں کے نام خطوط لکھے تھے۔ ان کے جوابات انہوں نے مجھے دکھائے تھے۔ ان جوابات میں میری صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا تھا۔ مگر براہ راست یا بالواسطہ انداز میں یہ شکایت تھی کہ میرا مزاج تنقیدی ہے۔ اور اسی تنقیدی مزاج کی بنا پر ان کے ساتھ میرا نباہ نہ ہو سکے گا۔ (ڈائری، 30 جنوری 1991ء) موجودہ دینی مدارس دینی مدارس، بلا شبہ موجودہ زمانہ میں اہم دینی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کے افادی پہلو پر اتنا زیادہ لکھا جا چکا ہے کہ میری طرف سے اس سلسلے میں صرف تصدیق کافی ہے۔ اس پر مزید اضافہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ تاہم دینی مدارس کی بعض علامات مثلاً ان میں باہمی اختلاف بلکہ تصادم یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان میں مسلمہ خوبیوں کے باوجود، کوئی کمی ہے۔ اگر کمی نہ ہو تو یہ ناممکن ہے کہ یہ مدارس مسلمانوں کی باہمی جنگ کا میدان بن جائیں۔ حالاں کہ مسلمانوں کی باہمی جنگ سراسر حرام ہے۔ میرے نزدیک وہ کمی یہ ہے کہ یہ مدارس اپنے افراد کو صرف داخلی نشانہ دیتے ہیں، وہ ان کو کوئی خارجی نشانہ نہیں دیتے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ داخلی نشانہ بالآخر باہمی ٹکراؤ پیدا کرتا ہے۔ جب کہ خارجی نشانہ یہ کرتا ہے کہ قوتوں کو خارج کی طرف موڑ کر لوگوں کو آپس کے تصادم سے بچا لیتا ہے۔ وہ قوتوں کو خارجی محاذ پر لگا دیتا ہے۔ موجودہ دینی مدارس کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ تحفظ کی نفسیات کے زیر اثر وجود میں آئے۔ چنانچہ ان کا سارا نظام اور نصاب تحفظ کے تحت بنا۔ بالفاظ دیگر ان مدارس نے اول روز سے مسلمانوں کو صرف داخلی نشانہ دیا۔ وہ ان کو کوئی خارجی نشانہ نہ دے سکے۔ اور جس قوم کے افراد کے پاس صرف داخلی نشانہ ہو، وہ ایک حد پر پہنچ کر ہمیشہ آپس میں ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader